یہودیوں کے حملے میں فلسطینی خاندان کا مکان نذرآتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے نواح میں انتہا پسند یہودی آبادکاروں نے ایک فلسطینی خاندان کے مکان کو نذرآتش کردیا ہے۔آتش زدگی کے اس واقعے میں مکان کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

یہودی آبادکاروں نے الخلیل کے جنوب میں واقع یاتا میں فلسطینی خاندان کے مکان پر فائر بموں سے حملہ کیا تھا اور مکان میں ان کی چڑھائی کے وقت پانچ بچے اور دو بالغ افراد موجود تھے۔حملہ آوروں نے ایک کھڑکی سے مکان کے اندر آگ لگانے والی ڈیوائسز پھینکی ہیں۔

انھوں نے اس مکان کے نزدیک عبرانی میں ایک عبارت بھی لکھ دی تھی اور اس حملے کو ''انتقام'' قرار دیا ہے۔یاتا کے مئیر موسیٰ محمرا نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہودی آباد کاروں نے نسل پرستی پر مبنی جرم کا ارتکاب کیا ہے اور وہ تمام فلسطینی خاندان کو ختم کرنا چاہتے تھے۔

یہودی انتہا پسندوں کے اس حملے کو ''قیمت چکانے'' کی پالیسی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔اس کے تحت یہودی آباد کار اپنے خلاف حکومت کی کارروائیوں کے ردعمل میں سکیورٹی اہلکاروں یا پھر فلسطینیوں کی املاک پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں