غزہ محاصرہ: فلسطینی عمرہ کی سعادت سے محروم
اسرائیلی جارحیت سے تباہ حال غزہ کی سرحد کی بندش اور مسلسل محاصرے کی وجہ سے ہزاروں فلسطینی الحرمین الشریفین کی زیارت سے محروم ہیں۔
غزہ سے تعلق رکھنے والے تقریبا 7500 فرزندان توحید نے عمرہ ادائی کی غرض سے سعودی عرب کے سفر کی کوشش کی مگر انہیں مصری حکام نے رفح کراسنگ عبور کرنے کی اجازت نہ دی۔ مصر نے سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے 24 اکتوبر سے غزہ کو بیرونی دنیا سے ملانے والی رفح کراسنگ بند کر رکھی ہے۔ یہ کراسنگ صرف مریضوں اور طلباء کے لئے وقفے وقفے سے کھولی جاتی ہے۔
رفح کراسنگ کی بندش کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ جنگ سے متاثرہ آبادی کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تباہ کن جنگ کے نتیجے میں غزہ میں ہزاروں گھر تباہ جبکہ دسیوں ہزار افراد بے گھر ہو گئے تھے۔
عمرہ ادائی کے سفر کی اجازت کے منتظر غزہ کے 80 سالہ رہائشی فارس حایک کا کہنا ہے "مجھے ہر گھنٹے اجازت کا انتظار ہے۔ ہمیں دن ایک سال کی طرح محسوس ہوتا ہے۔" فارس نے نومبر میں اپنی اہلیہ، بچوں اور پوتوں کے ہمراہ عمرے کے لئے سفر کی درخواست دی تھی۔
غزہ کے عمرہ اور حج آپریٹر کا کاروبار کرنے والے ایک ٹریول ایجنٹ کا کہنا ہے رفح کراسنگ کی مسلسل بندش سے ان کے کاروبار کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ٹریول ایجنٹس کے نمائندہ گروپ کے سربراہ عوض ابو مذکور کہا ہے کہ کراسنگ کی بندش کی وجہ سے غزہ کے ایجنٹ ہر ماہ تقریبا 140٫000 ڈالر کا نقصان اٹھا رہے ہیں۔
-
مصر نے رفح بارڈر کراسنگ عارضی طور پر کھول دی
مصری حکام نے غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع رفح بارڈر کراسنگ کو عارضی طور پر کھول دیا ہے ...
مشرق وسطی -
سیناء اورغزہ کے درمیان ایک کلومیٹر طویل بفرزون
مصری حکام کا رفح کے نزدیک زیرزمین لمبی سرنگوں کی دریافت کے بعد اقدام
مشرق وسطی -
مصر: رفح راہداری بند، 3 ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ
اقدام جزیرہ نما سینا میں خوفناک کار بم دھماکے کے بعد کیا گیا
مشرق وسطی