تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بشارالاسد شام میں ہماری ترجیح نہیں: ریکس ٹیلرسن
’شام میں فوجی کارروائی کا ہدف روس نہیں تھا‘
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 7 ربیع الثانی 1441هـ - 5 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 13 رجب 1438هـ - 10 اپریل 2017م KSA 05:35 - GMT 02:35
بشارالاسد شام میں ہماری ترجیح نہیں: ریکس ٹیلرسن
’شام میں فوجی کارروائی کا ہدف روس نہیں تھا‘
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی شام میں پہلی ترجیح شدت پسند گروپ ’داعش‘ کو شکست فاش سے دوچار کرنا ہے۔ خطے میں دیر پا قیام امن کے لیے داعش کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے۔

 ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ ٹیلرسن نے کہا کہ داعش پر قابو پا کر نہ صرف امریکا کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کو روکا جا سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں امن واستحکام کے لیے داعش کی شکست ضروری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ٹیلرسن نے کہا کہ لوگ بار بار شام میں ہماری ترجیحات بارے سوال کرتے ہیں۔ ہماری ترجیحات واضح ہیں۔ شام میں ہماری پہلی ترجیح داعش کو شکست دینا ہے۔

شام میں جاری خانہ جنگی کے بارے میں انہوں نے کہا امریکا شام کے تمام متحارب گروپوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کا خواہاں ہے۔ توقع ہے کہ شام میں اعتدال پسند قوتیں مذاکرات کی میز پر اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گی۔

ٹیلرسن نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ شام میں متحارب فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اسد رجیم اور اس کے حلیف بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ مگر انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تازہ کشیدگی کے دوران بات چیت کا عمل متاثر ہوا ہے۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں ریک ٹیلرسن کاکہنا تھا کہ شام میں اسد رجیم کے ایک فوجی اڈے پر امریکی حملے پر روس کے انتقامی ردعمل سے ہم خوف زدہ نہیں۔ ہم نے اس اڈے کو تباہ کیا ہے جہاں سے اسد رجیم کے جنگی طیاروں نے اڑ کر خان شیخون میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ شام میں فوجی کارروائی کا نشانہ روس نہیں تھا۔ یہ حملہ ایک ’نپا تلا اقدام‘ تھا جس میں اسد رجیم کے کیمیائی ہتھیاروں کے مرکز کو تباہ کیا گیا۔
 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند