قطر کے ذرائع ابلاغ کی جانب سے یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے کردار بالخصوص متحدہ عرب امارات کے کردار کے خلاف سخت کی قسم کی مہم جاری ہے۔ اس مہم کے ساتھ یمن میں اخوان کے مرکز کی سپورٹ کے لیے مہم بھی شروع کی گئی جس کا صدر دفتر تعز میں ہے۔

یمن میں الاخوان کے دھڑے اور مزاحمت کاروں کے درمیان میڈیا جنگ میں بھی تیزی آئی ہے۔ اس کے علاوہ دوحہ میں مقیم الاخوان کے بعض رہ نماؤں نے حالیہ مرحلے میں قطر کے کردار کی نوعیت اور مختلف رجحانات کا انکشاف کیا ہے۔

تعز میں عسکری اور سیاسی ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ قطر نے یمن میں عوامی مزاحمت کاروں کی صفوں میں دراڑیں پیدا کرنے اور تعز کے بقیہ علاقوں کو باغی ملیشیا سے آزاد کرانے سے متعلق عرب اتحاد کے عسکری منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے واسطے منصوبہ بندی کی۔

ذرائع کے مطابق اس منصوبہ بندی پر عمل درامد کی نگرانی کی ذمے داری الاخوانی کے ایک یمنی رہ نما کو سونپی گئی۔ یہ پیش رفت مذکورہ رہ نما کے الاخوان کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے بعد سامنے آئی جو کچھ عرصہ قبل استنبول میں منعقد ہوئی تھی۔ اس رہ نما کے ساتھ ایک اور شخص بھی شامل ہے جس کو الاخوان نے 2012 میں یمنی شہریت دلوائی تھی۔

البتہ قطری فنڈنگ کی وصولی کا مشن ایک قبائلی شیخ کو دیا گیا جو صنعاء اور دوحہ کے درمیان مسلسل حرکت میں رہتا ہے۔

قطر کی منصوبہ بندی کا دائرہ عرب اتحاد کے ممالک اور یمن کی آئینی حکومت کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ قطری فنڈنگ اور سرپرستی سے یمن کے اخوان اور حوثیوں کے بیچ ایک سیاسی سمجھوتا کرانے کی فعّال کوششوں تک پھیل گیا۔

مبصرین کے مطابق یمن کے اخوان اور حوثیوں کے بیچ ممکنہ معاہدے کے لیے تیاری کئی ماہ سے شروع ہو گئی تھی۔ اس مقصد کے لیے الاخوان کے میڈیا نے یمن میں آئینی حکومت اور عرب اتحاد کے خلاف جوشیلی مہم بھی چلائی اور باغی ملیشیا کے میڈیا کے ساتھ مل کر اشتعال انگیز تقاریر کا سہارا لیا گیا۔