سعودی عرب میں 14 سالہ بچّی نے چھاتی کے سرطان کے خلاف مہم کے دوران اپنے بالوں کو کاٹنے کا مطالبہ کر کے سب کو حیران کر دیا۔

یاد رہے کہ غلاء الخالدی اس مہم کے سلسلے میں کم عمر ترین سفیر ہے۔ اس کو اقوام متحدہ نے دو برس قبل جذبہ خیر سگالی کی پہلی معذور سفیر کے طور پر منتخب کیا تھا۔ جذبہ خیر سگالی کی سفیر منتخب کیے جانے پر ریاض کے گورنر نے غلا کو اعزاز و اکرام سے بھی نوازا تھا۔

غلا کی والدی ہدی محمد المشاعل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "اُن کی بیٹی غلا چھاتی کے سرطان کے خلاف مہم (KSA 10) کے دوران آئی اور مطالبہ کیا کہ اُس کے بالوں کو کاٹ کر عطیہ کر دیا جائے ، اس لیے کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو ان بالوں کے اُس سے زیادہ ضرورت مند ہیں"۔ بعد ازاں غلا نے اپنے بالوں کا ایک حصّہ کٹوا کر انہیں سرطان کے خلاف برسرِجنگ زہرہ سوسائٹی کے حوالے کر دیے۔

ہدی المشاعل کے مطابق غلا کو کارِ خیر انجام دینے کا بہت زیادہ شوق ہے۔ وہ شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونی ورسٹی میں منعقد ہونے والی گلابی انسانی زنجیر میں بھی شریک ہوئی تھی۔ اس ایونٹ میں 10 ہزار خواتین نے حصّہ لیا تھا۔ اس گینز ورلڈ ریکارڈ کو قائم کرنے کا مقصد چھاتی کے سرطان ، اُس کے خطرات اور علاج کے بارے میں آگہی پیدا کرنا تھا۔

غلاء الخالدی

ہدی المشاعل کے مطابق اُن کی بیٹی متعدد فلاحی سوسائٹیز اور میڈیا مُہموں کے لیے بطور سفیر کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ مملکت میں کئی رضاکار ٹیموں کی رکن بھی ہے۔ وہ معذور افراد کے حقوق کے حوالے سے سیمیناروں اور کانفرنسوں میں بھی شریک ہو چکی ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران آگاہی سے متعلق اس کی سرگرمیوں کو سراہے جانے کے لیے اسے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

غلا کی ماں نے گفتگو کے اختتام پر بتایا کہ اُن کی بیٹی اس قول پر یقین رکھتی ہے کہ "آپ اچھا کیجیے ، ان شاء اللہ جواب میں آپ بہترین پائیں گے"۔