تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جذبہ خیر سگالی کی سفیر سعودی لڑکی نے اپنے بال کیوں کاٹے ؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 5 صفر 1440هـ - 16 اکتوبر 2018م
آخری اشاعت: اتوار 26 ربیع الثانی 1439هـ - 14 جنوری 2018م KSA 17:03 - GMT 14:03
جذبہ خیر سگالی کی سفیر سعودی لڑکی نے اپنے بال کیوں کاٹے ؟
العربیہ ڈاٹ نیٹ - ناديہ الفواز

سعودی عرب میں 14 سالہ بچّی نے چھاتی کے سرطان کے خلاف مہم کے دوران اپنے بالوں کو کاٹنے کا مطالبہ کر کے سب کو حیران کر دیا۔

یاد رہے کہ غلاء الخالدی اس مہم کے سلسلے میں کم عمر ترین سفیر ہے۔ اس کو اقوام متحدہ نے دو برس قبل جذبہ خیر سگالی کی پہلی معذور سفیر کے طور پر منتخب کیا تھا۔ جذبہ خیر سگالی کی سفیر منتخب کیے جانے پر ریاض کے گورنر نے غلا کو اعزاز و اکرام سے بھی نوازا تھا۔

غلا کی والدی ہدی محمد المشاعل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "اُن کی بیٹی غلا چھاتی کے سرطان کے خلاف مہم (KSA 10) کے دوران آئی اور مطالبہ کیا کہ اُس کے بالوں کو کاٹ کر عطیہ کر دیا جائے ، اس لیے کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو ان بالوں کے اُس سے زیادہ ضرورت مند ہیں"۔ بعد ازاں غلا نے اپنے بالوں کا ایک حصّہ کٹوا کر انہیں سرطان کے خلاف برسرِجنگ زہرہ سوسائٹی کے حوالے کر دیے۔

ہدی المشاعل کے مطابق غلا کو کارِ خیر انجام دینے کا بہت زیادہ شوق ہے۔ وہ شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونی ورسٹی میں منعقد ہونے والی گلابی انسانی زنجیر میں بھی شریک ہوئی تھی۔ اس ایونٹ میں 10 ہزار خواتین نے حصّہ لیا تھا۔ اس گینز ورلڈ ریکارڈ کو قائم کرنے کا مقصد چھاتی کے سرطان ، اُس کے خطرات اور علاج کے بارے میں آگہی پیدا کرنا تھا۔

غلاء الخالدی

ہدی المشاعل کے مطابق اُن کی بیٹی متعدد فلاحی سوسائٹیز اور میڈیا مُہموں کے لیے بطور سفیر کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ مملکت میں کئی رضاکار ٹیموں کی رکن بھی ہے۔ وہ معذور افراد کے حقوق کے حوالے سے سیمیناروں اور کانفرنسوں میں بھی شریک ہو چکی ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران آگاہی سے متعلق اس کی سرگرمیوں کو سراہے جانے کے لیے اسے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

غلا کی ماں نے گفتگو کے اختتام پر بتایا کہ اُن کی بیٹی اس قول پر یقین رکھتی ہے کہ "آپ اچھا کیجیے ، ان شاء اللہ جواب میں آپ بہترین پائیں گے"۔

 

نقطہ نظر

قارئین کی پسند