تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے ہتھیار لبنان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں: ٹیلرسن
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 4 ذوالحجہ 1439هـ - 16 اگست 2018م
آخری اشاعت: جمعرات 29 جمادی الاول 1439هـ - 15 فروری 2018م KSA 20:44 - GMT 17:44
حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے ہتھیار لبنان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں: ٹیلرسن
لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن سے بیروت میں جمعرات کو مصافحہ کرتے ہوئے ۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا ہے کہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے ہتھیاروں اور اس کے علاقائی تنازعات میں ملوث ہونے سے لبنان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

وہ لبنانی وزیراعظم سعد الحریری کے ساتھ بیروت میں جمعرات کو مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ حزب اللہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اس ضمن میں اس کے عسکری اور سیاسی بازو میں کوئی تمیز نہیں کی جاسکتی ہے۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ حزب اللہ نے شام میں بحران اور خطے میں دوسرے تنازعات کو بڑھاوا دیا ہے۔ اس کو بیرون ملک اپنی سرگرمیاں فوری طور پر بند کر دینی چاہییں۔

ریکس ٹیلرسن نے لبنانی قیادت پر بھی زور دیا ہے کہ وہ ملک کو علاقائی تنازعات سے دور رکھنے کے لیے اپنے وعدے پورے کریں۔انھوں نے بتایا کہ امریکا لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر امن برقرار رکھنے کے لیے دونوں ملکوں سے رابطے میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ صرف امریکا ہی کے لیے تشویش کا سبب نہیں ہے بلکہ لبنان کے عوام کو بھی اس ملیشیا کے اقدامات کے بارے میں مشوش ہونا چاہیے۔اس کے ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافے سے لبنان ہی کے لیے مسائل بڑھیں گے اور ا س کی غیر مطلوب اور غیر مددگار سکروٹنی کی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔اس کے جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے شانہ بشانہ باغی گروپوں کے خلاف گذشتہ ساڑھے چھے سال سے لڑرہے ہیں۔اس کے بارے میں یہ بھی رپورٹس منظرعام پر آچکی ہیں کہ اس کے جنگجوؤں ہی نے یمن کے حوثی شیعہ باغیوں کو عسکری تربیت دی ہے ۔

امریکی وزیر خارجہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’’ حزب اللہ کی شام میں موجودگی سے خون ریزی میں اضافہ ہوا اور یہ مسلسل جاری ہے،اس سے بے گناہ عوام اپنے گھروں سے بے گھر ہو رہے ہیں اور بشارالاسد کے سفاک رجیم کو سہارا ملا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’’انھوں نے لبنان سے یہ تقاضا نہیں کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تنازع میں کسی چیز سے دستبردار ہوئے بلکہ ہم مسئلے کے حل کی تلاش میں ہیں‘‘۔وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان بحری حدود کے تعیّن کے معاملے میں اختلافات کا حوالہ دے رہے تھے۔

ریکس ٹیلرسن نے بدھ کو اردن کے دارالحکومت عمان میں گفتگو کرتے ہوئے حزب اللہ کے بارے میں نرم لب ولہجہ اختیار کیا تھا اور کہا تھا کہ حزب اللہ لبنان میں سیاسی عمل کا حصہ ہے۔

انھوں نے جمعرات کو ایسے وقت میں بیروت کا یہ مختصر دورہ کیا ہے جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان ساحلی علاقے سے ایندھن کشید کرنے کے معاملے پر کشیدگی پائی جارہی ہے۔ لبنان اسرائیل کی جانب سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی علاقے میں دیوار کی تعمیر پر تشویش میں مبتلا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے بیروت میں لبنانی وزیراعظم سعد الحریری ، صدر میشیل عون اور پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ، خطے کی صورت حال اور حزب اللہ کی خطے میں سرگرمیوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

نقطہ نظر

قارئین کی پسند