تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی کی فوج کا شام میں عفرین کے گھیراؤ کا اعلان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 25 جمادی الثانی 1439هـ - 13 مارچ 2018م KSA 12:45 - GMT 09:45
ترکی کی فوج کا شام میں عفرین کے گھیراؤ کا اعلان
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

ترکی کی فوج نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے شمالی شام میں واقع قصبے عفرین کا گھیراؤ کر لیا ہے۔ فوج کے مطابق اس کارروائی میں شامی اپوزیشن کے جنگجو بھی شریک ہیں۔

ادھر کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کا کہنا ہے کہ ترکی عفرین آنے والے تمام راستوں کو بم باری کا نشانہ بنا رہا ہے۔ تاہم کرد یونٹس نے عفرین کے گھیراؤ کے حوالے سے ترکی کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض انقرہ کا "پروپیدگنڈہ" ہے۔

دوسری جانب ترک چینل NTV اور دیگر مقامی میڈیا کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو کا کہنا ہے کہ ترکی اور امریکا شمالی شام کے قصبے منبج سے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے انخلاء کی نگرانی کریں گے۔

انہوں نے ماسکو روانہ ہونے کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ترکی اور امریکا 19 مارچ کو ہونے والی بات چیت کے دوران منبج کے حوالے سے منصوبہ وضع کریں گے تاہم اس میں ناکامی کی صورت میں ترکی کی فوج فوجی آپریشن کرے گی۔ اوگلو کے مزید کہا کہ انقرہ اُن ہتھیاروں کے واپس لیے جانے کی کارروائی پر کڑی نظر رکھے گا جو امریکا نے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو فراہم کیے۔ واشنگٹن کے اس اقدام کے نتیجے میں نیٹو اتحاد میں شریک دونوں حلیف ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے۔

ترکی کی حکومت کے سرکاری ترجمان بکر بوزداج نے پیر کے روز کہا تھا کہ ان کا ملک عنقریب شام کے قصبے عفرین کو مسلح عناصر سے پاک کر دے گا۔ بوزداج نے بتایا کہ "ہم نے عفرین میں 1102 مربع کلو میٹر کا رقبہ دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیا ہے اور جلد ہی قصبے کے مرکز میں پہنچ کر اسے بھی کلیئر کرا لیں گے"۔

پیر کے روز ترکی افواج کے کرد اکثریت کے قصبے عفرین کے بیرونی کناروں پر پہنچنے کے بعد مقامی آبادی کے سیکڑوں شہریوں نے راہ فرار اختیار کر لی۔ انسانی حقوق کی شامی رصد گاہ المرصد کے مطابق اس وقت درجنوں گاڑیاں اس بات کی منتظر ہیں کہ انہیں شامی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں جانے کی اجازت دی جائے۔

ترکی کی فوج اور اس کے ہمنوا شامی گروپ 20 جنوری سے عفرین میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے خلاف کارروائی میں مصروف ہیں۔ ترکی کی فوج نے عفرین کے 60 فی صد حصّے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

کرد ذمّے داران کے مطابق عفرین میں "الم ناک انسانی صورت حال" کا سامنا ہے۔

 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند