تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شام : داعش نے السویدہ سے یرغمال بنائے گئے طالب علم کا سرقلم کردیا ،ویڈیو جاری
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 13 رجب 1440هـ - 20 مارچ 2019م
آخری اشاعت: اتوار 23 ذیعقدہ 1439هـ - 5 اگست 2018م KSA 16:40 - GMT 13:40
شام : داعش نے السویدہ سے یرغمال بنائے گئے طالب علم کا سرقلم کردیا ،ویڈیو جاری
دمشق ۔ ایجنسیاں

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے شام کے جنوبی صوبے السویدہ سے یرغمال بنائے گئے کم سے کم تیس افراد میں سے ایک طالب علم کو موت کی نیند سلا دیا ہے۔

ایک ویب سائٹ السویدہ 24 نیو ز کے سربراہ نور رضوان نے بتایا ہے کہ دہشت گرد گروپ نے جمعرات کو اس انیس سالہ طالب علم کو ہلاک کیا تھا۔داعش نے 25 جولائی کو السویدہ میں واقع ایک گاؤں پر حملہ کیا تھا اور وہاں سے عورتوں اور بچوں سمیت دروز فرقے سے تعلق رکھنے والے چھتیس افراد کو اغوا کرکے ساتھ لے گئے تھے۔

قتل کیے گئے نوجوان طالب علم کو السویدہ میں واقع گاؤں الشبکی سے اس کی ماں کے ساتھ اغوا کیا گیا تھا۔اس کے خاندان کو اس کی دو ویڈیو ز موصول ہوئی ہیں ۔ان میں ایک میں اس کا سرقلم کیا جارہا ہے اور دوسری ویڈیو میں وہ قتل ہونے سے پہلے کچھ گفتگو کررہا ہے۔قتل کے بعد اس کی لاش کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔

اس ویب سائٹ نے دوسری ویڈیو کے بعض حصے آن لائن پوسٹ کیے ہیں۔اس میں اس نوجوان نے سیاہ رنگ کی ٹی شرٹ پہن رکھی ہے اور اس کے ہاتھ اس کی پشت پر بندھے ہوئے ہیں۔تاہم اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ۔

شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ السویدہ کے گاؤں سے لوگوں کے اغوا کے بعد داعش کے ہاتھوں یہ پہلا قتل ہے۔داعش نے 25 جولائی کو السویدہ شہر میں پے درپے چھے بم دھماکے کیے تھے جن کے نتیجے میں ڈھائی سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سخت گیر جنگجو گروپ کا السویدہ میں یہ سب سے تباہ کن حملہ کیا تھا۔اس کے بعد داعش کے جنگجوؤں نے السویدہ کے مشرق میں واقع ایک گاؤں پر حملہ کیا تھا اور چھتیس دروز عورتوں اور بچوں کو اغو ا کرکے ساتھ لے گئے تھے۔ان میں چار عورتیں ان کے چنگل سے بچ کر بھاگ نکلی تھیں اور دو ہلاک ہوگئی تھیں۔اس وقت چودہ عورتیں اور سولہ بچے داعش کے قبضے میں ہیں ۔

دروز فرقے کے ایک مذہبی لیڈر نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ روس ان افراد کی بازیابی کے لیے داعش کے ساتھ بات چیت کررہا ہے۔واضح رہے کہ دروز سنہ 2011ء سے قبل شام کی کل آبادی کا تین فی صد تھے۔انھیں مسلمان سمجھا جاتا ہے لیکن داعش انھیں غیر مسلم قرار دیتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند