تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب میں میراث کا تنازع حل ، جائیداد 40 لاکھ ریال میں فروخت !
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 17 ربیع الثانی 1441هـ - 15 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 26 ذوالحجہ 1439هـ - 7 ستمبر 2018م KSA 08:46 - GMT 05:46
سعودی عرب میں میراث کا تنازع حل ، جائیداد 40 لاکھ ریال میں فروخت !
العربیہ ڈاٹ نیٹ ـ نادیہ الفواز

سعودی عرب کے صوبے الباحہ میں ایک شہری اور اُس کی بہن نے نانا کی میراث میں اپنی متوفی ماں کا حصّہ نہ ملنے پر خاتون کے بھائیوں کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ اس کے سبب خاندان تنازع کھڑا ہو گیا جس کے نتیجے میں صاحبِ جائیداد کی املاک کو ایک نیلامِ عام میں فروخت کیا گیا۔

عدالت نے دونوں بہن بھائیوں کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔ تاہم اُن کی ماں کے بھائیوں نے حصّے کی ادائیگی نہیں کی۔ اس پر عدالت نے یہ فیصلہ جاری کیا کہ وارثوں کے حصّے میں آنے والی 6 عدد جائیدادوں کی عام نیلامی کی جائے۔ یہ پیش رفت متوفی خاتون کے بھائیوں کی جانب سے اپنی بہن کی اولاد کو اُن کی ماں کا حصّہ دینے سے انکار کے بعد سامنے آئی ہے۔

دوسری جانب متوفی خاتون کے بیٹے ابراہیم الغامدی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اُن کی ماں نے 4 برس قبل اپنے 4 بھائیوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا تا کہ وہ اپنے والد کی میراث سے اپنا بقیہ حصّہ حاصل کر سکے۔ عدالت نے 1438 ہجری کے 11 ویں مہینے میں وارثوں کی بقیہ جائیداد کو فروخت کرنے کا فیصلہ دے دیا تھا۔ اس کے بعد رواں برس رجب میں خاتون کا انتقال ہو گیا۔ بعد ازاں عدالت نے دوبارہ سے مقدمے کو زیر غور لا کر حتمی فیصلہ جاری کیا۔

الغامدی نے امید یقین ظاہر کیا کہ جائیداد کی نیلامی کے بعد وہ اپنا شرعی حق حاصل کر لیں گے۔

الباحہ صوبے میں پراپرٹی کے محکمے کے سربراہ اور مذکورہ نیلام کے ذمّے دار یحیی ابو راس نے بتایا کہ انہیں عدالت کی جانب سے یہ احکامات موصول ہوئے کہ جائیداد کی فروخت کے لیے نیلام کا انعقاد کیا جائے۔ ابوراس کے مطابق نیلام میں یہ جائیداد 40 لاکھ ریال میں فروخت ہوئی جو اس کی بہترین مارکیٹ ویلیو ہے۔ نیلام کے دوران بولی میں الباحہ سے تعلق رکھنے والے 300 سے زیادہ کاروباری افراد نے حصّہ لیا۔

 

 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند