تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شام کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے تمام عرب ممالک کا اتفاق رائے ضروری ہے: قرقاش
شام میں ایران اور ترکی کے بجائے عرب ممالک کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 3 رجب 1441هـ - 27 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 19 ربیع الثانی 1440هـ - 28 دسمبر 2018م KSA 07:07 - GMT 04:07
شام کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے تمام عرب ممالک کا اتفاق رائے ضروری ہے: قرقاش
شام میں ایران اور ترکی کے بجائے عرب ممالک کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے
متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش
العربیہ ڈاٹ نیٹ

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے کہا ہے کہ شام کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے تمام عرب ممالک کے اتفاق رائےسے ممکن ہے۔

'العربیہ' کودیے گئے خصوصی انٹرویو میں انور قرقاش کا کہنا تھا کہ تمام عرب ممالک کا شام کے بحران کے موثر سیاسی حل کا روڈ میپ دینے سے اتفاق ہے۔

ایک سوال کے جواب میں‌انہوں‌نے کہا کہ دمشق کے ساتھ رابطوں کی بحالی ایرانی مداخلت کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑے گی۔

انور قرقاش نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا دمشق میں اپنا سیاسی اور سفارتی مشن بحال کرنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیاگیا ہے۔ شام میں تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتی صورت حال اور آنے والے وقت میں دمشق کے ساتھ عرب ممالک کے رابطے ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ امارات شامی قوم، ملک کی خود مختاری اور اس وحدت کا حامی ہے۔

درایں اثناء اماراتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے سوشل میڈیا کی ویب سائیٹ 'ٹوئٹر'پر پوسٹ ایک ٹویٹ میں کہا کہ شام میں ایرانی اور ترکی مداخلت سے عرب ممالک کا کردار زیادہ ضروری ہے۔ متحدہ عرب امارات دمشق میں اپنا سفارتی مشن بحال کرکے عرب ممالک کے شام میں کردار کو مزید فعال بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب ممالک شام میں موجود رہ کر جنگ کے خاتمے اور شام میں دیر پا قیام امن کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز اماراتی وزارت خارجہ نے شام میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند