تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شام کو "عرب لیگ" میں واپسی کے لیے کیا کرنا ہوگا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 1 رجب 1441هـ - 25 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 3 جمادی الاول 1440هـ - 10 جنوری 2019م KSA 06:41 - GMT 03:41
شام کو "عرب لیگ" میں واپسی کے لیے کیا کرنا ہوگا؟
قاہرہ ۔ اشرف عبدالحمید

مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے کہا ہے کہ شام کی عرب لیگ تنظیم میں واپسی کےلیے عرب لیگ کی قرارداد کا انتظار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کی عرب لیگ کی رکنیت کی بحالی کے لیے بہت سے اقدامات کرنا ہوں گے جس کے بعد ہی بیروت میں ہونے والی اقتصادی سربراہ کانفرنس میں شام کی شرکت ممکن ہوسکے گی۔

قاہرہ میں اپنے مراکشی ہم منصب کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ دمشق کو عرب لیگ میں واپسی کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 پرعمل درآمد کرنے کے ساتھ کئی اور اہم اقدامات کرنا ہوں گے۔ سب سے اہم بات یہ کہ شام میں سیاسی عمل میں پیش رفت اور موجودہ خانہ جنگی کاخاتمہ دمشق کی عرب لیگ میں واپسی کی راہ ہموار کرےگا۔

مصری سفارت کاروں نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے ملک میں جنگ بندی، تمام پناہ گزینوں کی بہ حفاظت واپسی، عوام کی امنگوں اور توقعات کے مطابق جامع سیاسی عمل کا آغاز، تمام طبقات اور شہری حقوق کو یقینی بنانے کی ضمانت دینے اور ملک میں بلا تفریق رنگ، نسل اور مذہب کے شہریوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرنے کی ضمانت دینا ہوگی۔

مصر کے سابق معاون وزیر خارجہ ھانی خلاف نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شام میں جاری بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد 2254 اہمیت کی حامل ہے جس میں شامی حکومت سے اقدامات کے مطالبات کیےگئے ہیں۔ انہی کی طرف مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے بھی توجہ مبذول کرائی ہے۔ ان مطالبات میں شام میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی سیاسی عمل کا آغاز، کسی مخصوص فرقے سے پاک جامع حکومت کی تشکیل، ملک میں ئنے اور تمام طبقات کے لیے قابل قبول دستور کی تدوین، اقوام متحدہ کی زیرنگرانی آزدانہ اور شفاف انتخابات جس میں شامی پناہ گزینوں کو بھی رائے دہی کے استعمال کا حق دیا جائے جیسے مطالبات شامل ہیں۔

مصر کے ایک دوسرے سفارت کار اور وزیر خارجہ کے سابق معاون حسن ھریدی نے کہا کہ شام کے عرب لیگ میں واپسی کے لیے سب سے بڑا اختلاف شام کی خانہ جنگی پر ہے۔ شام کی خانہ جنگی کا خاتمہ اور بحران کا سیاسی جامع حل دمشق کی عرب لیگ میں واپسی ممکن بنا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شام میں نئے دستور کی تدوین سے بہت سے حل طلب مسائل حل ہوسکتےہیں۔ نئے دستور کی تدوین کے ذریعے حکومت کی تشکیل کا طریقہ کار،پارلیمنٹ اور انتخبابات کااجراء جیسے اقدامات اہمیت کے حامل ہیں۔
 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند