تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
آخر کار ہمیں جوہری معاہدے کو آگ ہی لگانا ہے : سربراہ شوری نگہبان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 21 ذوالحجہ 1440هـ - 23 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 11 جمادی الاول 1440هـ - 18 جنوری 2019م KSA 08:23 - GMT 05:23
آخر کار ہمیں جوہری معاہدے کو آگ ہی لگانا ہے : سربراہ شوری نگہبان
احمد جنتی
لندن - رمضان الساعدی

ایران میں شوری نگہبان (قانونِ اساسی کی شوریٰ نگہبان) کے سربراہ احمد جنتی نے چھ بڑے ممالک کے ساتھ طے پائے گئے جوہری معاہدے سے اب تک علاحدہ نہ ہونے پر ایرانی صدر حسن روحانی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "آخر کار ہم جوہری معاہدے کو آگ لگا دیں گے".

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں کی جانب سے جمعرات کے روز جاری بیانات میں احمد جنتی نے ملک میں اقتصادی انارکی کا حوالہ دیتے ہوئے معاشی حالات کی ابتری سے خبردار کیا۔

انہوں نے کہا کہ "لوگوں کے معاشی حالات انتہائی برے ہیں۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ اضافی اخراجات ختم کرے اور جو کچھ اس کے پاس ہے وہ فروخت کرے تا کہ حالات بہتر ہو سکیں۔ اگر ہم وطنوں کو ناکامی کا احساس ہوا تو وہ بحران کے حل میں ہر گز شریک نہیں ہوں گے"۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے کچھ عرصہ قبل جاری رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2019 میں ایران میں معیشت کی شرح نمو 3.6 فی صد رہے گی جب کہ افراط زر کی شرح 34.1 فی صد تک پہنچ جانے کی توقع ہے۔

اقتصادی صورت حال کی ابتری کے نتیجے میں ایرانی شہریوں کے احتجاج میں بالخصوص گزشتہ سال کے دوران اضافہ دیکھا گیا۔ اس سلسلے میں ملک کے 100 سے زیادہ شہروں میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ ابتدا میں احتجاج کنندگان نے حسن روحانی کی حکومت کے خلاف نعرے بلند کیے تاہم جلد ہی مظاہرین کی زبانوں پر ملکی نظام اور سپریم لیڈر خامنہ ای کے خلاف نعرے بھی جاری ہو گئے۔

یاد رہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے امریکا کا علاحدہ ہونا اور پھر تہران پر دوبارہ سے پابندیاں عائد کیا جانا ،،، اس کے نتیجے میں اندرونی اور بیرونی طور پر سیاسی مساوات میں پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

احمد جنتی نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جانب سے دو سال قبل دیے گئے بیان کا بھی حوالہ دیا۔ اس بیان میں خامنہ ای کا کہنا تھا کہ "اگر امریکیوں نے جوہری معاہدے کو پھاڑا تو ہم بھی اسے آگ دکھا دیں گے"۔ خامنہ نے یہ تبصرہ امریکی صدر ڈونلڈ کے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدے کے جواب میں کیا تھا۔ ٹرمپ نے امریکی عوام سے کہا تھا کہ اگر وہ ملک کے صدر بن گئے تو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو پھاڑ کر پھینک دیں گے۔

دوسری جانب ایران گزشتہ ستمبر میں یورپی یونین کے ساتھ ایک خصوصی مالیاتی طریقہ کار تلاش کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا جو ایران کو جوہری معاہدے پر کاربند رہنے اور امریکی پابندیوں کو چکمہ دینے میں مدد گار ثابت ہو سکے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی "اِرنا" نے جمعرات کے روز یورپی یونین کی ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ یورپی اقتصادی بینک ایران کے ساتھ ایک تجارتی سمجھوتے کے قریب پہنچ چکا ہے۔


تاہم احمد جنتی نے اس پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر یورپ امریکا سے برا نہیں ہے تو وہ کسی طور امریکا سے بہتر بھی نہیں ہو گا کیوں کہ وہ بھی وقت ضائع کر رہا ہے"۔


 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند