تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اسد رجیم پر یورپی سفارت کاروں کو دمشق میں داخلے سے روکنے کا الزام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 16 جمادی الاول 1440هـ - 23 جنوری 2019م KSA 08:05 - GMT 05:05
اسد رجیم پر یورپی سفارت کاروں کو دمشق میں داخلے سے روکنے کا الزام
برسلز ۔ ایجنسیاں

یورپی یونین کے تین سینیر سفارت کاروں نے کہا ہے کہ اسد رجیم نے یورپی سفارت کاروں اور امدادی کارکنوں کو اپنے ملک میں داخلے کے لیے ویزے جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سفارت کاروں اور دیگر کارکنوں کو روکنا جنگ زدہ علاقوں میں امدادی آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی منظم کوشش ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق یورپی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ بیروت اور دمشق کے درمیان باقاعدگی کے ساتھ سفر کرنے والے سفارت کاروں کو شامی حکومت نے ویزے جاری کرنے یا ان کی تجدید سے انکار کردیا ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2011ء سے شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران یورپی یونین شام کے قریب ہونے کی بناء پر بیروت کو شام میں داخلے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ شام میں احتجاجی مظاہروں اور جنگ وجدل کے باعث بیشتر سفارت خانے بند ہوچکے ہیں۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ رواں ماہ جنوری کے اوائل میں اسد رجیم نے یورپی مندوبین کو دمشق کےویزے جاری کرنے سے انکار کردیا تھا اور اس کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں‌کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسد رجیم کی طرف سے جاری کردہ ویزوں پر صرف ایک بارشام میں داخلہ ممکن ہے اور دوبارہ داخلے کے لیے اس کی تجدید کرانا ہوتی ہے۔

سفارت کاروں‌نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ اسد رجیم کی طرف سے سفارت کاروں کے دمشق میں داخلے پر پابندیاں یورپی ممالک کو دمشق میں اپنے سفارت خانے کھولنے کے لیے دبائو ڈالنے کی کوشش ہے۔ اسد رجیم یہ دعویٰ‌کررہی ہے کہ اس نے روسی فوج اور ایرانی ملیشیائوں کی مدد سے ملک کے بیشتر علاقوں پر اپنا قبضہ بحال کردیا ہے اور دنیا کو اب شامی حکومت کے ساتھ سفارتی تعطل ختم کردینا چاہیے۔
 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند