تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کیا حزب اللہ لبنان کو ایرانی ادویہ سے بھر دے گی؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 5 رجب 1441هـ - 29 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 2 جمادی الثانی 1440هـ - 8 فروری 2019م KSA 00:01 - GMT 21:01
کیا حزب اللہ لبنان کو ایرانی ادویہ سے بھر دے گی؟
بیروت ۔ جونی فخری

لبنان کی نئی حکومت میں حزب اللہ ملیشیا کے پاس پہلی مرتبہ 3 وزارتوں کا قلم دان آیا ہے۔ ان میں وزارت صحت کے علاوہ نوجوان اور کھیل کی وزارت اور پارلیمانی امور کی وزارت مملکت شامل ہے۔

امریکا نے وزارت صحت کا قلم دان حزب اللہ کے ہاتھوں میں جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ واشنگٹن کو اندیشہ ہے کہ وزیر صحت جمیل جمق کے حزب اللہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حزب اللہ وزارت صحت کے وسائل کو اپنے زیر انتظام ہسپتالوں اور طبی اداروں کے لیے استعمال میں لا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ جمیل جبق اور حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ علی المقداد ہم زلف ہیں۔

لبنانی حلقوں میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آیا حزب اللہ لبنانی مارکیٹ کو کم قیمت پر ایرانی ادویہ کے واسطے کھولنے کے لیے وزارت صحت  سے فائدہ اٹھانے کی قدرت رکھتی ہے۔

اس سوال کے جواب میں لبنان کے بینکنگ ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ یہ امر مشکل ہے کیوں کہ لبنان کا بینکنگ سیکٹر یورپیوں کی طرح ایک خصوصی ادارہ قائم کرنے پر قادر نہیں۔ بالخصوص جب کہ لبنانی نظام میں لین دین کے لیے ڈالر کا استعمال ہوتا ہے۔ لہذا لبنانی بینکوں کی جانب سے ادا کیا جانے والے ایک ایک پیسہ امریکی وزارت خزانہ کی کڑی نگرانی میں ہے۔ البتہ ان ذرائع نے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ حزب اللہ غیر قانونی طریقے (خشکی کے راستے اسمگلنگ) سے لبنان میں ایرانی ادویات کو داخل کر سکتی ہے۔واضح رہے کہ ایرانی ادویہ امریکی پابندیوں میں شامل نہیں ہیں۔

لبنانی بینکنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ ایرانی ادویہ خریدنے کے لیے (امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے یورپ کا مجوزہ) خصوصی مالیاتی میکانزم INSTEX کا سہارا نہیں لے سکتی۔ اس لیے کہ لبنان تہران کے خلاف امریکی اقدامات پر سے چھلانگ نہیں لگا سکتا۔ اس مقصد کے لیے حزب اللہ کی جانب سے وزارت صحت سے فائدہ اٹھانے کی کوئی بھی کوشش تمام لبنانیوں کو خطرے میں ڈال دے گی۔

دہشت گردی کی فنڈنگ کے انسداد کے لیے امریکی وزارت خزانہ کی معاون مارشل بیلنگسلے ایک ہفتے سے بیروت میں ہیں۔ انہوں نے لبنانی عہدے داران سے بات چیت کی جس میں بڑی حد تک توجہ اس بات پر مرکوز رہی کہ حزب اللہ کے مالی اثاثوں کی نگرانی سخت کرنے کی ضرورت ہے۔

لبنانی بینکنگ ذرائع نے باور کرایا ہے کہ لبنانی بینکوں میں مالی رقوم کی منتقلی اور دیگر لین دین کی 3 ذریعوں سے کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔ پہلا ذریعہ خود بینکوں کی اپنی نگرانی ہے۔ دوسرا ذریعہ لبنان کا مرکزی بینک ہے۔ تیسر اور آخری ذریعہ امریکی وزارت خزانہ ہے۔ لہذا حزب اللہ کے لیے کافی مشکل ہو گا کہ وہ امریکی پابندیوں سے بچ کر ایرانی ادویات کی خریداری کر سکے۔

تاہم ذرائع نے واضح کیا کہ حزب اللہ شام میں اپنے زخمیوں کے علاج کے واسطے لبنانی وزارت صحت کی جانب سے مختص کی گئی رقم (تقریبا ایک ارب ڈالر) سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

دوسری جانب لبنان میں ڈرگ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ ارمان فارس نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ "درحقیقت ایران پر پابندیاں عائد ہونے سے پہلے بھی لبنان اس سے ادویات درآمد نہیں کر رہا تھا۔ لبنان میں ادویات کی درآمد سے متعلق شفاف اور واضح قوانین ہیں جن میں ادویات اور ان کے نرخوں کی رجسٹریشن شامل ہے۔

لبنان میں دواؤں کی کمپنی کو اس امر کی تصدیق کرنا لازم ہو گی کہ آیا ایرانی کرنسی ادویات کی درآمد کے لیے غیر ملکی کرنسیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایرانی کرنسی 5 برس سے زیادہ عرصے سے مذکورہ فہرست میں شامل ہے مگر لبنانی دواخانوں میں کوئی ایرانی دوا موجود نہیں ہے۔ لہذا جب کئی برسوں سے ایسا نہیں ہوا تو اب پابندیوں کے ساتھ کیا یہ ممکن ہو سکے گا؟".

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند