تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایردوآن اور قطر کے درمیان مشکوک ڈیل سے ترکی کی قومی سلامتی داؤ پر لگ سکتی ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 2 جمادی الثانی 1440هـ - 8 فروری 2019م KSA 17:12 - GMT 14:12
ایردوآن اور قطر کے درمیان مشکوک ڈیل سے ترکی کی قومی سلامتی داؤ پر لگ سکتی ہے؟
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

ترکی میں صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت نے دسمبر 2018 میں قطر کے ساتھ (محصول کاری کے) ایک مالی معاہدے کو پارلیمنٹ کے ذریعے منظور کرانے میں بڑی تیزی دکھائی۔ جس کے بعد ایردوآن نے اپنے ملک میں 20 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی فوجی ٹینک بنانے والی فیکٹری کو چاندی کی طشتری میں رکھ کر بکتربند گاڑیاں بنانے والی ترک اور قطری مشترکہ کمپنی BMC کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کمپنی کو عصام سنجق چلاتے ہیں جو ایردوآن کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔

ترک پارلیمنٹ نے محصول کاری کے اس معاہدے کی کی منظوری دے دی۔ اس کے بعد ایردوآن نے 20 دسمبر کو ایک ایگزیکٹو آرڈیننس جاری کیا جس میں ٹینک سازی کی قومی کمپنی کے حقوق کو 25 برس کے لیے BMC کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا۔ واضح رہے کہ یہ کارروائی بنا شفافیت اور کسی بھی جانب سے بولی پیش کیے بغیر عمل میں لائی گئی۔

خبروں سے متعلق انگریزی ویب سائٹ Nordic Monitor کی جانب سے افشا کی گئی دستاویزات کے مطابق قطر کی مسلح افواج BMC کمپنی میں 49.9 % حصص کی مالک ہے جب کہ عصام سنجق 25% اور اوزترک خاندان 25.1%. حصص کا مالک ہے۔

البتہ انقرہ کے حلقوں میں گردش کرنے والی معلومات کے مطابق BMC کمپنی کے حقیقی مالک ایردوآن ہیں جب کہ عصام سنجق محض ترک صدر کے تجارتی مفادات کی دیکھ بھال کرنے والے ناظم ہیں۔

یاد رہے کہ ایردوآن کا مقرب اوزترک خاندان سزا یافتہ قاتل اور ایک منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک کے سربراہ غالب اوزترک کے واسطے سے مافیا سے تعلقات کے سبب مشہور ہے۔

مذکورہ ویب سائٹ کی تحقیق اور حاصل شدہ دستاویزات کے مطابق قطر اور ترکی کے درمیان معاہدہ 5 دسمبر 2018 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ اس دوران معاہدے کی جلد از جلد منظوری عمل میں لانے کے لیے قانون کی خلاف ورزی کی گئی اور دو کے بجائے صرف ایک پارلیمانی کمیٹی کو معاہدے کے متن کا جائزہ لینے کے لیے کہا گیا۔

محصول کاری کے معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے اگلے روز خارجہ امور کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں 10 بین الاقوامی سمجھوتوں کو زیر بحث لایا گیا جو کہ پہلے سے ایجنڈے میں شامل تھے جب کہ ان میں قطر کے ساتھ معاہدہ موجود نہ تھا۔ البتہ خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ فولقان بوزکر نے اپنے اختیارات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جو صرف استثنائی حالات میں استعمال ہوتے ہیں، کمیٹی کے ایجنڈے میں قطر کے ساتھ معاہدے کو شامل کرنے کی غرض سے رائے شماری کا مطالبہ کر دیا۔

اپوزیشن ارکان نے اس پر اعتراض کیا کہ انہیں پہلے سے کوئی نوٹفکیشن نہیں ملا جس کے سبب وہ معاہدے کا متن نہیں پڑھ سکے۔ اس پر بوزکر نے دعوی کیا کہ معاہدہ کا متن پہلے سے منظور شدہ ہے تاہم یہ قبل از وقت انتخابات کے سبب جنرل اسمبلی کو پیش نہیں کیا جا سکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کے مفادات داؤ پر لگے ہوئے ہیں لہذا اس معاہدے کی جلد از جلد منظوری کی ضرورت ہے۔

آخرکار تیس شقوں کا یہ معاہدہ زیر بحث آئے بغیر منظور کر لیا گیا۔

واضح رہے کہ ترکی اور قطر کے درمیان محصول کاری سے متعلق ایک معاہدہ 25 دسمبر 2001 کو پہلے ہی دستخط شدہ ہے جس پر عمل درامد کا آغاز یکم جنوری 2009 سے ہوا تھا۔ ایسی صورت میں نیا معاہدہ طے کرنے کی کیا ضرورت آ پڑی ؟

اس حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پرانے اور نئے معاہدوں میں محصول کاری کی شرح میں تبدیلی کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں معاہدے میں نئی شقوں کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ ترکی کی جنرل اسمبلی نے 25 دسمبر 2018 کو معاہدے کی منظوری دے دی۔ اس کے اگلے روز متعلقہ قانون 7158 کو صدر ایردوآن کے پاس دستخط کے لیے ارسال کر دیا گیا جنہوں نے 27 دسمبر کو اس پر دستخط کر دیے۔ اس کے اگلے روز 28 دسمبر کو یہ سرکاری طور پر جاری ہونے کے بعد ترکی میں حتمی قانون کی صورت اختیار کر گیا۔

ایردوآن نے 13 جنوری 2019 کو فوجی ٹینک تیار کرنے والی کمپنی کوBMC کے حوالے کرنے کے فیصلے کا اعلان کر دیا۔

ترکی میں فوجی ٹینک بنانے والی یہ فیکٹری 1975 میں قائم کی گئی تھی۔ یہاں 1000 افراد کام کرتے ہیں اور BMC کے حوالے ہونے کے بعد ان افراد کی ملازمتیں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ دوسری جانب ایردوآن نے تمام تر تنقید اور نکتہ چینی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نج کاری کے نتیجے میں تقریبا دس ہزار افراد کو روزگار ملے گا اور قطر اور دیگر ممالک سے اربوں ڈالر وصول ہوں گے۔

نورڈک مانیٹر ویب سائٹ کی تحقیق کے مطابقBMC کمپنی میں ترک شراکت داروں کے علاوہ قطر کے بھی بعض شہری حصص رکھتے ہیں اور وہ اس کے مینجمنٹ بورڈ میں کام کر رہے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان قطریوں کے نام عبد الله حمد النابت، محمد جابر محمد اور محمد العثمان ہیں۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ٹینکوں کی فیکٹری کی نج کاری ترکی کے موجودہ قوانین بالخصوص نج کاری کے قانون 4046 اور وزارت دفاع کے قیام کے قانون کے ساتھ متصادم ہے۔ یہ فیکٹری ترکی کی فوج کی ملکیت ہے لہذا اسے غیر ملکیوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازیں اس کی نج کاری کے ترکی کی قومی سلامتی پر اثرات مرتب ہوں گے۔

ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر کہا ہے کہ آج کوئی نہیں جو اس خطر ناک نج کاری کے عمل کو چیلنج کر سکے کیوں کہ ترکی میں قانون کی بالا دستی باقی نہیں رہی۔ علاوہ ازیں اس معاملے پر کوئی عدالت میں دعوی بھی نہیں دائر کر سکتا کیوں کہ ملک کی عدلیہ مکمل طور پر ایردوآن کے آگے سرنگوں ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند