تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایئربس کے سربراہ کی جانب سے جرمنی کو وارننگ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 12 جمادی الثانی 1440هـ - 18 فروری 2019م KSA 15:29 - GMT 12:29
ایئربس کے سربراہ کی جانب سے جرمنی کو وارننگ
العربیہ ڈاٹ نیٹ

طیارے بنانے والی معروف کمپنی ایئربس کے چیف ایگزیکٹو ٹوم اینڈرز نے جرمنی کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ہتھیاروں کی برآمدات سے متعلق مشترکہ یورپی قوانین وضع کرنے کے لیے کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ یورپ کی دفاعی پالیسی مضبوط بنانے کے سلسلے میں برلن کی خواہشات کا سخت امتحان ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے بیان میں اینڈرز کا کہنا تھا کہ برلن کی جانب سے ہتھیاروں کی برآمدات میں برتری رکھنے کا دعوی ،،، برطانیہ، فرانس اور اسپین کو مایوس کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی موافقت کے بغیر ایئربس کمپنی ایسی مصنوعات تیار کرنے کے بارے میں سوچ سکتی ہے جس میں جرمن ساختہ کوئی حصہ نہ ہو۔

جرمنی کی جانب سے یورپی یونین کے غیر رکن ممالک کو یا نیٹو اتحاد کے ممالک کو ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندیاں ،،، طویل عرصے سے جاری دو طرفہ تعاون کے لیے "گلے کے کانٹے" کے مترادف ہے۔

اینڈرز کے مطابق ایسا لگ رہا ہے کہ اس حوالے سے فرانس اور جرمنی کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے تا کہ نئے ضوابط وضع کیے جا سکیں تاہم ابھی تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

اینڈرز نے مزید کہا کہ یہ بات ایئربس میں ہمیں جنون میں مبتلا کر دیتی ہے کہ جن مصنوعات میں جرمنی کا تیار کردہ چھوٹا سا پرزہ بھی موجود ہو تو جرمنی خود کو ایسی مصنوعات کی فروخت روک دینے کا استحقاق عطا کر دیتا ہے۔ مثلا اسی بنیاد پر جرمنی "فرانسیسی ہیلی کاپٹر" کی فروخت روک دیتی ہے۔

مزید برآں فرانس اس بات پر بھی چراغ پا ہے کہ جرمنی نے اکتوبر میں استنبول میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد انفرادی طور پر سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت معطل کر دی جو الجزائر کے بعد اس کے لیے دنیا میں دوسری بڑی مارکیٹ ہے۔

اس فیصلے نے فضا سے فضا میں مار کرنے والے طویل فاصلے کے میزائلوں کی فروخت کے لیے مطلوب ایکسپورٹ لائسنس بھی معطل کر دیا۔ غالبا یہ میزائل سعودی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں Eurofighter Typhoon میں استعمال ہوتے ہیں۔

فرانس کے سفارتی اور عسکری ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر برلن نے اپنی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کیا تو مستقبل میں فرانس اور جرمنی کے درمیان تعاون خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

جرمنی کی وزیر دفاع اورسولا وون دیر لیین نے جمعرات کے روز مطالبہ کیا تھا کہ ہتھیاروں کی برآمدات کے حوالے سے یورپ کی یکساں پالیسی وضع کی جائے۔ میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ "جرمنوں کو اس بات کا اظہار نہیں کرنا چاہیے کہ وہ فرانس سے زیادہ با اخلاق ہیں یا انسانی حقوق کے حوالے سے سیاسی سطح پر برطانیہ سے زیادہ دور اندیش ہیں"۔

ٹوم اینڈرز کے مطابق اگر جرمنی ایک یکساں یورپی دفاعی پالیسی کو آگے لے کر چلنا چاہتا ہے تو اسے مشترکہ ہتھیاروں کی فروخت کے سلسلے میں فیصلہ کن ضوابط کی ضرورت ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند