تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شام:'ایس ڈی ایف' کے 15 جنگجو منحرف، اسدی فوج میں شامل ہوگئے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 17 رمضان 1440هـ - 22 مئی 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 15 جمادی الثانی 1440هـ - 21 فروری 2019م KSA 07:45 - GMT 04:45
شام:'ایس ڈی ایف' کے 15 جنگجو منحرف، اسدی فوج میں شامل ہوگئے
دبئی ۔ العربیہ، ایجنسیاں

شام کے الحسکہ شہرسے ملنے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق امریکی حمایت یافتہ 'سیرین ڈیموکریٹک فورسز' (ایس ڈی ایف) کے 15 جنگجو منحرف ہونے کے بعد بشارالاسد کی وفادار فوج میں شامل ہوگئے ہیں۔ منحرف ہونےوالوں میں سینیر کمانڈر بھی شامل ہیں۔

بشارالاسد کی پولیس کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ الحسکہ میں منحرف ہونے والے 'ایس ڈی ایف' کے جنگجوئوں‌نے پناہ کی درخواست کی تھی جسےقبول کرلیا گیا ہے۔ منحرف ہونےوالے اب ہمارے پاس ہیں۔

خیال رہے کہ 'ایس ڈی ایف' کو شام میں امریکا اور مغربی ملکوں کی حمایت حاصل ہے اور یہ گروپ شام میں 'داعش' کے خلاف نبردآزما ہے۔ ڈیموکریٹک فورسز کا کہنا ہے کہ وہ داعش کو شکست سےدوچار کرنے تک جنگ جاری رکھے گی مگر اس کی صفوں میں پیدا ہونے والی پھوٹ نے کئی سوالات پیدا کردیے ہیں۔ اگرچہ ایس ڈی ایف کے آپریشنزکے نتیجے میں شام میں 'داعش' کی کمر توڑ دی گئی تھی۔

ادھر داعش کے زیرتسلط الباغوغز سے ٹرکوں کے ذریعے2000 شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ شہریوں کی نقل مکانی کے دوران جنگی طیاروں کی نچلی پروازیں‌بھی جاری ہیں اور متعدد مقامات پر زور دار دھماکوں کی بھی آوازیں سنی گئی ہیں۔

سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے ترجمان مصطفیٰ بالی نے بتایا کہ ابھی تک الباغوز میں دہشت گرد مضبوطی کےساتھ کھڑے ہیں۔ انہیں وہاں سے نکال باہر کرنے کے لیے بھرپور وارکرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری فورسز نے قصبے کا محاصرہ کرلیا ہے۔ دہشت گردوں کے پاس غیر مشروط طورپر ہتھیار پھینکنے یا لڑنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔

درایں اثناء امریکا کی قیادت میں شام میں'داعش' کے خلاف قائم اتحاد نے کہا ہے کہ الباغوز میں 'داعش' کے جنگجو پوری قوت کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ الباغوز عراق کی سرحد پرواقع ایک قصبہ ہے جو شام میں 'داعش' کے آخری ٹھکانوں میں سے ایک ہے۔ ایس ڈی ایف کا کہنا ہے کہ الباغوز سے صرف عام شہریوں کو نکلنے کی اجازت ہے اور کڑی چھان بین کے بعد ہی انہیں وہاں‌سے جانے دیاجا رہا ہےتاکہ کوئی دہشت گرد شہریوں کی آڑ میں وہاں سے فرار نہ ہوسکے۔
 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند