تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عراق میں مختلف حملوں کے بعد داعش کی واپسی سے متعلق وارننگ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 13 رجب 1440هـ - 20 مارچ 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 15 جمادی الثانی 1440هـ - 21 فروری 2019م KSA 10:21 - GMT 07:21
عراق میں مختلف حملوں کے بعد داعش کی واپسی سے متعلق وارننگ
بغداد - حسن السعيدی

عراق میں گزشتہ سات روز کے دوران ملک کے مغربی علاقوں میں صحرا اور جنگلوں میں روپوش داعش تنظیم کے بچے کھچے عناصر کے ہاتھوں شہریوں اور عسکری اہل کاروں کی ہلاکت کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان میں آخری واقعہ منگل کے روز 6 افراد کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کا تھا۔ یہ افراد 12 مغویوں میں شامل تھے۔

اس حوالے سے عراق کے سیاسی اتحاد "الاصلاح والاعمار" کے سربراہ عمار الحکیم نے ملک میں "سکیورٹی کی مخدوش حالت کے عود کر آنے" سے خبردار کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عراقی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں یقینی بنائی جانے والی سکیورٹی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں مزید غلطیوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔"

عمار الحکیم نے منگل کے روز انبار صوبے کے صحرائے نخیب میں پیش آنے والے واقعے کی مذمت کی۔ انہوں نے انٹیلی جنس کوششوں کو بڑھانے کا مطالبہ کیا تا کہ مجرموں کو عدالت کے کٹہرے میں پہنچایا جا سکے اور وہ اپنے قبیح جرم کی سزا پائیں۔

ادھر مبصرین نے باور کرایا ہے کہ داعش تنظیم جن علاقوں میں سرگرم ہے وہ "سکیورٹی کے حوالے سے کمزور علاقے" ہیں اور وہاں سکیورٹی فورسز کا وجود مفقود ہے۔

یاد رہے کہ عراقی قومی سلامتی کے مشیر اور وزیر داخلہ کے منصب کے امیدوارو فالح الفیاض میونخ میں سکیورٹی کانفرنس میں اس جانب اشارہ کر چکے ہیں کہ القاعدہ کی طرز پر داعش تنظیم بھی نئے ڈھانچے اور نئے نام کے ساتھ پھر سے نمودار ہونے کی کوشش میں ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ چند ہفتوں میں عراق کے دو صوبوں صلاح الدین اور انبار کے اطراف علاقوں میں داعش تنظیم کی سرگرمیوں میں توسیع دیکھنے میں آئی ہے۔

دوسری جانب بغداد میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور جوائے ہڈ نے انسداد دہشت گردی کی چوتھی بین الاقوامی کانفرنس میں خطاب کے دوران کہا کہ داعش تنظیم ابھی تک عراق میں ایک خطرہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عراقی فورسز داعش تنظیم کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ برسر جنگ ہے۔ ہڈ نے واضح کیا کہ عراق میں امریکی اڈوں کا کوئی وجود نہیں اور بین الاقوامی اتحاد میں شریک امریکی فورسز عراقی حکومت کی درخواست پر عراق کے زیر انتظام فوجی اڈوں میں کام کر رہی ہیں۔

امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ ان کا ملک پوری شفافیت کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے عراق کو اربوں ڈالر کی سپورٹ پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ارکان پارلیمنٹ کو اس بات کے لیے رشوتیں پیش نہیں کر رہا کہ وہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے قانون کے حق میں ووٹ نہ دیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند