تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فلسطینیوں نے اسرائیلی وزیراعظم کے غرب ِ اردن کو ضم کرنے کے اعلان کی مذمت کردی
نیتن یاہو غربِ اردن پر اسرائیل کی خود مختاری کا اعلان کرتے ہیں تو انھیں حقیقی مسئلے کا سامنا ہوگا: ریاض المالکی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: اتوار 1 شعبان 1440هـ - 7 اپریل 2019م KSA 22:01 - GMT 19:01
فلسطینیوں نے اسرائیلی وزیراعظم کے غرب ِ اردن کو ضم کرنے کے اعلان کی مذمت کردی
نیتن یاہو غربِ اردن پر اسرائیل کی خود مختاری کا اعلان کرتے ہیں تو انھیں حقیقی مسئلے کا سامنا ہوگا: ریاض المالکی
فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی
عمان۔ ایجنسیاں

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم یہودی آباد کاروں کی بستیوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے لیے اپنے انتخابی وعدے کو عملی جامہ پہنایا تو انھیں حقیقی معنوں میں مسئلے کا سامنا ہوگا۔

ریاض المالکی نے اردن میں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے موقع پر امریکی خبررساں ایجنسی ( ایسوسی ایٹڈ پریس) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کا انتخابی وعدہ دراصل انتہا پسند قوم پرست ووٹ بنک کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ہے اور وہ سخت انتخابی دوڑ کے حتمی مرحلے میں قوم پرستوں کی حمایت کے لیے کوشاں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’اگر اس پالیسی پر عمل کیا جاتا ہے تو فلسطینی اس کی مزاحمت کریں گے۔ نیتن یاہو غربِ اردن پر اسرائیل کی خود مختاری کا اعلان کرنے کے خواہاں ہیں تو پھر انھیں حقیقی مسئلے کا سامنا ہوگا۔وہ وہاں موجود 45 لاکھ فلسطینیوں سے کیسے نمٹیں گے‘‘۔

ریاض المالکی نے کہا کہ اسرائیل ان فلسطینیوں کو وہاں سے بے دخل نہیں کرسکتا۔ہم وہیں موجود رہیں گے اور بین الاقوامی برادری کو ہمارے ساتھ معاملہ کرنا ہوگا۔

فلسطینی وزیر خارجہ نے امریکا پر الزام عاید کیا کہ وہی نیتن یاہو کی عرب علاقوں پر غاصبانہ قبضے کے لیے حوصلہ افزائی کررہا ہے۔پہلے اس نے مقبوضہ بیت المقدس ( یروشلیم ) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا اور اب حال ہی میں1981ء میں غاصبانہ طور پر ضم کی گئی گولان کی چوٹیوں پر صہیونی ریاست کی خود مختاری تسلیم کرلی ہے۔

نیتن یاہو سے ہفتے کو ایک پرائم ٹائم انٹرویو میں یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ انھوں نے اپنی موجودہ مدت کے دوران میں غربِ اردن میں قائم بڑی یہودی بستیوں کو ضم کیوں نہیں کیا ہے؟اس کے جواب میں وہ ٹی وی میزبان کو مخاطب کرکے یوں گویا ہوئے تھے:’’ آپ نے ایک دلچسپ سوال کیا ہے۔جب ہم اگلے مرحلے میں آگے بڑھیں گے تو اس کا جواب ہاں میں ہے۔ہم اگلے مرحلے میں آگے بڑھیں گے اور وہ اسرائیل کی خود مختاری کا نفاذ ہے‘‘۔

نیتن یاہو نے اپنی وزارت عظمیٰ کے چاروں ادوار میں مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کا سلسلہ جاری رکھا ہے لیکن انھوں نے اب تک اسرائیل کےمقبوضہ اس فلسطینی علاقے کے لیے کوئی ویژ ن پیش نہیں کیا ہے۔

فلسطینی غربِ اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل علاقوں پر اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو لیکن نیتن یاہو نے منگل کو پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ سے قبل یہ ڈرامائی اعلان کردیا ہے۔اگر وہ یہودی بستیوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے اعلان کو عملی جامہ پہناتے ہیں تو فلسطینیوں کے ساتھ تنازع کے دو ریاستی حل کے تمام امکانات معدوم ہوجائیں گے۔

دریں اثناء روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے خطے میں امریکا کے ’’ غیر قانونی فیصلوں‘‘ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ممالک کے درمیان بات چیت کے ذریعے ہی مسئلے کا کوئی حل تلاش کیا جا سکتا ہے کیونکہ یک طرفہ اقدامات سے کبھی کوئی اچھائی برآمد نہیں ہوتی‘‘

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند