تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
القاعدہ کے ساتھ تعاون کیا اور اس کے ارکان کو تربیت دی: کمانڈر ایرانی پاسداران انقلاب
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 ربیع الاول 1441هـ - 14 نومبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 10 شعبان 1440هـ - 16 اپریل 2019م KSA 10:13 - GMT 07:13
القاعدہ کے ساتھ تعاون کیا اور اس کے ارکان کو تربیت دی: کمانڈر ایرانی پاسداران انقلاب
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

ایرانی پاسداران انقلاب طویل عرصہ قبل القاعدہ تنظیم کے ساتھ تعاون کرنے کے علاوہ تنظیم کے ارکان کو تربیت دیتی رہی ہے۔ یہ انکشاف پاسداران کے ایک کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سعید قاسمی نے پیر کے روز ایک ریڈیو انٹرویو میں کیا۔

بوسنیا میں 1992 میں بھڑکنے والی جنگ میں پاسداران انقلاب کے کردار سے متعلق سوال کے جواب میں قاسمی نے کہا کہ "آج ہم بتا سکتے ہیں کہ ہمارا کردار کیا تھا کیوں کہ تمام لوگ یہ جانتے ہیں۔ ہم ہلال احمر کی فورس کے طور پر بوسنیا گئے تھے تا کہ وہاں جنگجوؤں کو تربیت دے سکیں"۔

میزبان نے سوال کیا کہ: کیا آپ کا مطلب ہے کہ ہلال احمر آپ کی عسکری سرگرمیوں کو ڈھانپنے کے واسطے پردے کے مترادف تھی؟

اس پر قاسمی نے جواب دیا کہ "سب لوگ یہ جانتے ہیں کیوں کہ امریکیوں نے ہر چیز تحریر کر دی تھی اور پھر یہ دستاویزات شائع کر دیں۔ سال 2009 کے واقعات کے دوران ہمارے ملک میں جو خاتون صحافی کرسٹینا امان پور موجود تھی اور احمدی نژاد سے لے کر حسن روحانی تک ہمارے ہاں ایرانی حکومت کے تمام عہدے داران جس سے گفتگو پسند کرتے ہیں۔ وہ ان معلومات کو وہاں افشا کرنے کی ذمے دار تھی۔ وہ سی این این اور بی بی سی کے لیے جاسوسی کرتی تھی اور اس نے بہت سے امور کو پھیلایا"۔

قاسمی نے مزید کہا کہ "اس وقت القاعدہ بوسنیا آئی اور ہم نے کچھ عرصہ مل کر کام کیا۔ القاعدہ کے ارکان ہمارے بعض لوگوز کا بھی استعمال کیا کرتے تھے"۔

قاسمی کے مطابق جو کوئی بھی خمينی سے محبت رکھتا تھا وہ ترکی، جرمنی، فرانس اور تیونس وغیرہ سے بوسنیا پہنچا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند