تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تاریخ کے آئینے میں: تُرکوں کی کارستانی کے سبب قدیم یونان کی عظیم یادگار تباہ ہو گئی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 14 شعبان 1440هـ - 20 اپریل 2019م KSA 13:25 - GMT 10:25
تاریخ کے آئینے میں: تُرکوں کی کارستانی کے سبب قدیم یونان کی عظیم یادگار تباہ ہو گئی
تیونس ۔ طہ عبدالناصر رمضان

پانچ ویں صدی قبل مسیح میں ایتھنز کے لوگوں نے Acropolis کے پہاڑی علاقے کے نزدیک Parthenon کے نام سے یونانی دیوی "ایتھنا" کا ایک عبادت خانہ قائم کیا۔ یہ عبادت خانہ وقت کے ساتھ قدیم یونان کی ایک اہم علامت بن گیا۔

اکثر ذرائع کے مطابق پارتھینون کی تعمیر کا کام 447 قبل مسیح میں شروع ہوا تھا جو اگلے 15 برسوں بعد پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اس کام کی نگرانی دو اغریقی ماہر تعمیراتIctinus اورCallicrates کے علاوہ یونانی مجسمہ ساز Phidias نے کی۔ جدید اندازوں کے مطابق عبادت خانے کی تعمیر میں پتھر کی 13400 اینٹیں استعمال ہوئیں جن کی موجودہ دور میں قیمت 70 لاکھ ڈالر کے مساوی بنتی ہے۔

پارتھینون حوادث زمانہ کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا رہا جن میں نمایاں ترین حادثہ وہ آتش زدگی تھی جس نے اس کے کچھ حصوں کو تباہ کر ڈالا۔

چھٹی صدی عیسوی میں پارتھینون کو ایک مسیحی گرجے میں تبدیل کر دیا گیا اور پھر یہ مسیحیوں کے لیے ایک اہم مقام کی حیثیت اختیار کر گیا۔

سال 1456 عیسوی میں عثمانیوں نے ایتھنز کو فتح کیا جس کے بعد سلطان محمد دوم کے حکم پر اس عبادت خانے کو ایک مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔

بعد ازاں ڈوگ آف وینس Francesco Morosini کی قیادت میں ایک لشکر کو ایتھنز پر حملے اور Acropolis کے پہاڑی علاقے کو واپس لینے کے لیے بھیجا گیا۔

عثمانیوں نے اس پہاڑی علاقے میں اپنے ٹھکانوں کو مورچہ بند کر لیا۔ اس دوران پارتھینون کی تاریخی حیثیت کو درپیش ممکنہ خطرے کا علم ہونے کے باوجود اس میں گولہ بارود کی بڑی مقدار ذخیرہ کر دی گئی۔

فریقین کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے دوران 26 ستمبر 1687 کو ڈاگز آف وینس کی جانب سے پارتھینون کی سمت داغا گیا توپ کا گولہ ،،، بارود کے گودام میں دھماکے کا سبب بن گیا۔ اس کے نتیجے میں اس تاریخی عمارت کا ایک اہم حصہ تخریب کا شکار ہو گیا۔ آج ہم پارتھینون کو اسی حالت میں دیکھتے ہیں۔

بعد ازاں عثمانیوں نے اس عظیم تاریخی مقام کو چھوڑ دیا۔ اگلے سال عثمانیوں نے ایک بار پھر اس مقام کو واپس حاصل کر لیا۔ اس موقع پر انہوں نے 1687 میں گولہ بارود کے دھماکے کے نتیجے میں گر جانے والے پتھروں کے سہارے ایک چھوٹی مسجد تعمیر کر دی۔

آنے والی صدیوں میں اس تاریخی مقام کو متعدد تخریبی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

انیس ویں صدی کے اوائل میں برطانوی سفارت کار اور فوجی تھامس بروس عثمانیوں کی اجازت سے پارتھینون میں بچنے والے مجسموں کو اپنے ساتھ لے گیا۔ یہ مجسمے برٹش میوزیم لندن میں آج بھی موجود ہیں۔

یونان کی آزادی کی جنگ کے دورانAcropolis کا پہاڑی علاقہ تُرک فوجیوں اور یونانی انقلابیوں کے درمیان لڑائی کا میدان بن گیا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند