تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حوثیوں کے وزیر داخلہ کو حزب اللہ نے کس طرح لبنان منتقل کیا ؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 17 ذیعقدہ 1440هـ - 20 جولائی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 18 شعبان 1440هـ - 24 اپریل 2019م KSA 10:04 - GMT 07:04
حوثیوں کے وزیر داخلہ کو حزب اللہ نے کس طرح لبنان منتقل کیا ؟
بيروت - جونی فخری

یمن میں حوثی ملیشیا نے گزشتہ ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ صنعاء میں اس کی حکومت کا وزیر داخلہ عبدالحكيم الماوری لبنان کے ایک ہسپتال میں فوت ہو گیا ہے۔

حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ایجنسی "سبا" کے مطابق 59 سالہ الماوری ناقابل علاج مرض میں مبتلا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو حاصل ہونے والی خصوصی معلومات کے مطابق مذکورہ حوثی وزیر کو حزب اللہ ملیشیا کے زیر انتظام ایک ادارے کے "الرسول الاعظم" ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ بیروت کے ہوائی اڈے کے راستے میں واقع یہ ہسپتال "حزب الله" کے عناصر کی شدید سیکورٹی میں رہتا ہے۔

معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ الماوری کچھ دن پہلے عرب اتحاد کے ایک فضائی حملے کے دوران زخمی ہو گیا تھا جس کے بعد اسے لبنان منتقل کیا گیا۔ الماوری کو اقوام متحدہ کے طیارے میں پہلے سلطنت عُمان لے جایا گیا اور پھر وہاں سے شام منتقل کرنے کے بعد خشکی کے راستے حزب اللہ کے عناصر کے پہرے میں لبنان پہنچایا گیا۔ یاد رہے کہ یمن میں حوثیوں اور آئینی حکومت کے درمیان زخمیوں کے تبادلے کا سمجھوتا موجود ہے جس کی سرپرستی اقوام متحدہ کرتا ہے۔

معلومات کے مطابق حوثی وزیر کسی ناقابل علاج مرض کے سبب نہیں بلکہ فضائی حملے میں شدید زخمی ہو جانے کے نتیجے میں زندگی کی بازی ہار بیٹھا۔

حوثیوں نے عبدالحکیم الماوری کو دسمبر 2017 میں باغی حکومت کا وزیر داخلہ مقرر کیا تھا۔ اس سے قبل وہ حوثیوں کے گڑھ صعدہ ضلع کے سیکورٹی ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہا تھا۔

لبنان کے سیاسی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے حزب اللہ کی جانب سے لبنان کی سیادت کو چیلنج کیے جانے پر شدید حیرت کا اظہار کیا ہے۔ اس لیے کہ الماوری کوئی عام یمنی شہری نہیں بلکہ باغیوں کی حکومت کا وزیر داخلہ تھا ،، اس حکومت کا جسے عرب دنیا اور عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق جو کچھ ہوا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لبنان حوثیوں کے منصوبوں اور مقاصد کے لیے عقبی باغیچہ بن چکا ہے۔

یمن کی جانب سے سرکاری طور پر برابر اس بات پر احتجاج کیا جاتا رہا ہے کہ حزب اللہ اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے اور حوثی ملیشیا کو تربیت دے رہی ہے۔ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کی جانب سے کئی بار اعلانیہ طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حوثیوں کے منصوبے کی سپورٹ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے خلاف باغیوں کی مدد کی جا رہی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند