تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران میں سزائے موت پانے والے صوفی تحریک کے بانی کی رہائی کا قصہ!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 17 رمضان 1440هـ - 22 مئی 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 19 شعبان 1440هـ - 25 اپریل 2019م KSA 07:15 - GMT 04:15
ایران میں سزائے موت پانے والے صوفی تحریک کے بانی کی رہائی کا قصہ!
محمد علی طاھری
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ صالح حمید

ایران کی ایک عدالت نے روحانی صوفی گروپ کے بانی محمد علی طاھری کو فساد فی الارض اور دین اسلام میں تحریف کے الزامات کے تحت سزائے موت سنانے کے کئی سال بعد رہا کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں میں بتایا ہے کہ صوفی تحریک کے بانی محمد علی طاھری کو ’حلقہ عرفان‘ قائم کرتے ہوئےدین میں تحریک، فساد فی الارض اور غیرقانونی تنظیم کی تشکیل کے الزامات میں کے تحت موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ مسلسل 8 سال تک ایرانی جیلوں میں رہنے کے بعد ایک بار پھر رہا ہوگئے ہیں۔

ایرانی جوڈیشل کونسل کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے خبر رساں ادارے'میزان' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ محمد علی طاھری کے خلاف کئی ایک مقدمات ہیں مگر عدالت نے ان کی قید کی سزا پوری ہونے کے بعد انہیں رہا کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کونسل کے بعض ججوں نے ملزم کو مزید ساڑھے سات سال قید کی سفارش کی تھی تاہم عدالت نے ایک ہی سزا پر اکتفا کیا ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی خبر رساں ویب سائیٹس کے مطابق محمد علی طاھری قانون تعزیرات کے آرٹیکل 286 کے تحت فساد فی الارض کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم دیا گیا تھا۔ ایرانی پولیس نے محمد علی طاھری کو 2011ء میں حراست میں لیا تھا۔ ان کےخلاف ’حلقہ عرفان‘ کے نام سے ایک روحانی گروپ قائم کرنے اور اس گروپ سے وابستہ افراد کی روحانی تعلیم وتربیت کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ طاہری نے ’حلقہ عرفان‘ 2006ء میں قائم کیا تھا۔حلقہ عرفان کے بانی نفسیاتی اور جسمانی امراض کے شکار لوگوں کا روحانی علاج بھی کرتے تھے۔ نوجوان اور متوسط ایرانی طبقے حتیٰ کہ طلباءکی طرف سے بھی انہیں غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔

ایران کے اہل تشیع کے سرکرہ رہ نمائوں کی طرف سے محمد علی طاھری کے طرزعمل کو دین اسلام کی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند