تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
لبنان کا بنک دِیوالا نکلنے کو نہیں : وزیر خزانہ علی حسن خلیل
ایران اور شام کے خلاف پابندیوں کا کوئی حقیقی قانونی جواز نہیں، لبنان مالیاتی لین دین میں عالمی طریق کار کی پاسداری کرے گا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 26 شعبان 1440هـ - 2 مئی 2019م KSA 17:35 - GMT 14:35
لبنان کا بنک دِیوالا نکلنے کو نہیں : وزیر خزانہ علی حسن خلیل
ایران اور شام کے خلاف پابندیوں کا کوئی حقیقی قانونی جواز نہیں، لبنان مالیاتی لین دین میں عالمی طریق کار کی پاسداری کرے گا
لبنان کے وزیر خزانہ علی حسن خلیل العربیہ کی نمایندہ ریما مکتبی سے گفتگو کرتے ہوئے ۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

لبنان کے وزیر خزانہ علی حسن خلیل نے کہا ہے کہ ان کے ملک کا بنک دِیوالا نکلنے کو نہیں ۔ اس وقت ایک ٹھوس بنک کاری نظام کام کررہا ہے ۔مرکزی بنک میں پیشگی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں جن کے نتیجے میں اقتصادی ، مالیاتی اور زری استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔

انھوں نے یہ باتیں العربیہ نیوز چینل کی نمایندہ ریما مکتبی سے خصوصی انٹرویو میں کہی ہیں۔انھوں نے لبنان کو درپیش اقتصادی اور مالیاتی مسائل کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی ان کا کہنا ہے کہ داخلی سیاسی صورت حال ، کابینہ کی تشکیل میں تاخیر ، بیرون ملک سے ترسیل زر میں کمی یا سست رفتار سے آمد ، شامی مہاجرین کے بوجھ اور شام اور لبنان کے درمیان زمینی راستوں کی بندش کی وجہ سے یہ اقتصادی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ان مختلف عوامل کی بنا پر مالیاتی صورت حال بھی پیچیدہ ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود میں دوٹوک الفاظ میں اور پورے تیّقن سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا دِ یوالا نکلنے کو نہیں اور نہ ہم لبنان کو بنک دِیوالا قرار دینے والے ہیں۔

العربیہ نے ان سے سوال کیا کہ کیا اس سے یہ مطلب اخذ کیا جائے کہ لبنان میں کوئی اقتصادی بحران نہیں ہے؟اس کے جواب میں وزیر خزانہ نے اس حد تسلیم کیا کہ ’’اقتصادی بحران تو ہے اور اس کی شرح نمو میں کمی اور اقتصادی سرگرمی سے جانچ کی جاسکتی ہے لیکن یہ بحران ایسا نہیں کہ اس پر قابو ہی نہ پایا جاسکے۔اس کو حل کیا جاسکتا ہے۔اس مقصد کے لیے ہم وسیع تر معاشی اصلاحات لا رہے ہیں‘‘۔

ان مجوزہ اصلاحات کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ہم بین الاقوامی تنظیموں اور کمیٹیوں کے ساتھ کئی ایک امور پر بات چیت کررہے ہیں۔ان میں بجٹ خسارے میں کمی لانے اور بجلی سے متعلق مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔اس کے علاوہ اجرتوں ، ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمین کی پنشن اور سرکاری قرض چکانے اور آیندہ دو سال کے دوران میں بجٹ میں کفایت شعاری پر مبنی اقدامات متعارف کرائے جارہے ہیں۔اس کے علاوہ لبنان میں غیرملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے منصوبے بھی شروع کیے جارہے ہیں۔

جب ان کی توجہ عوامی جذبات کی جانب مبذول کرائی گئی کہ عام لبنانی شہری تو سیاسی اشرافیہ کی بدعنوانیوں کو ملک کو درپیش اقتصادی بحران کا ذمے دار ٹھہراتا ہے۔اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگر مالیاتی اور معاشی منطق کی اصطلاح میں بات چیت کی جائے تو صرف کرپشن ہی اقتصادی زبوں حالی کا سبب نہیں ہوسکتی۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ملک میں کرپشن موجود ہے لیکن میں اس کو ایک سیاسی نعرے کے طور پر استعمال نہیں کرتا ہوں ۔ہمیں دراصل بدعنوانی کی شرح کو محدود کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ہم معاشی اصلاحات کے فریم ورک کے تحت بھی بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’’ ہم لبنانی حکومت ، ریاست اور اداروں پر عوام کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں تاکہ شہریوں کو یہ احساس ہو کہ ان کی ریاست سے کوئی با مقصد وابستگی ہے ۔کفایت شعاری کی مہم کے تحت شہریوں پر کوئی نئے ٹیکس عاید نہیں کیے جائیں گے ۔ان اقدامات کے تحت ہم متوسط یا نچلے درجے کے افراد کی اجرتوں میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے بلکہ ان کی صورت حال میں بہتری لائیں گے‘‘۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے ایران اور شام کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خیال میں ان کا کوئی حقیقی قانونی جواز نہیں ۔تاہم لبنان مالیاتی لین دین اور پابندیوں کے حوالے سے بین الاقوامی طریق کار کی پاسداری کررہا ہے اور کرتا رہے گا۔گذشتہ چار سال سے ہم تمام متعلقہ قوانین کی پاسداری کرتے چلے آرہے ہیں۔ہمارا بنک کاری نظام امریکا اور دوسرے ممالک کے ساتھ لین دین میں بین الاقوامی معیارات کی پاسداری کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم شام میں جاری بحران کا سیاسی حل اور وہاں ا ستحکام چاہتے ہیں تو پھر ہمیں شام کے خلاف اقدامات پر نظرثانی کرنا ہوگی۔لبنان شام کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور اپنے جغرافیائی محل وقوع اور تاریخی، تجارتی تعلقات کے پیش نظر دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ لبنان کا بنک کاری نظام دوسرے عرب ممالک کے مقابلے میں بہت جدید ہے اور اس کے پاس زرمبادلہ کے اتنے وافر ذخائر موجود ہیں جن کی بدولت ملکی کرنسی لیرا کے استحکام کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔لبنانی تارکین ِ وطن کو اس حوالے سے پُراعتماد ہونا چاہیے کہ ان کی جانب سے اندرون ملک بھیجی جانے والی رقوم محفوظ ہیں ۔

علی حسن خلیل سے جب لبنان کے عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات اور ان سے مجوزہ مالی امداد کے حوالے سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ لبنان کو ان ممالک کی جانب سے برادرانہ مالی اور اقتصادی امداد کی ضرورت ہے۔یہ ممالک اپنے اداروں کے ذریعے لبنان کے ساتھ معاشی ، مالیاتی اور ترقی کی سطح پر مضبوط تعلقات استوار کرسکتے ہیں۔

انھوں نے حزب اللہ کے ہتھیاروں اور اس کو لبنان کی قومی فوج میں ضم کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس معاملے پر ملک کی دفاعی حکمتِ عملی طے کرتے وقت تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔نیز ہمارے یہاں تاریخی تجربے کی بنا پر یہ نقطہ نظر پایا جاتا ہے کہ اسرائیلی دشمن کے ساتھ تنازع اور محاذ آرائی کی صورت میں مزاحمت( حزب اللہ) کی لبنانی فوج کے شانہ بشانہ موجودگی ضروری ہے۔

لبنان کی اسرائیل کے ساتھ زمینی اور بحری حدود کی حد بندی اور سرحدی علاقوں میں تیل کے کنووں کی کھدائی اور وہاں سے تیل نکالنے کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ دو الگ الگ ایشو ز ہیں۔ تیل نکالنے کا سرحدی حد بندی سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ لبنان بلاک نو میں ڈرلنگ کا عمل شروع کرنے والا ہے اور یہ بلاک لبنان اور فلسطین کے درمیان سرحد پر واقع ہے۔اس کی ڈرلنگ کا ٹھیکا دے دیا گیا ہے اور یہ کام معمول کے مطابق چلنا چاہیےاور وہاں ڈرلنگ اور پھر تیل نکالنے کا کام تو اپنے معمول کے مطابق شروع ہوجانا چاہیے۔

میں لبنانی جماعت امل تحریک سے وابستہ ہوں اور ہم اس بات میں پختہ یقین رکھتے ہیں کہ بحری اور زمینی حدود کے تعیّن میں ایک تعلق ہونا چاہیے تاکہ ہم مذاکرات کی میز پر اپنے کسی حق سے محروم نہ ہوں ۔تاہم اس حوالے سے امریکا اور اسرائیل کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے اور لبنان میں بھی بعض جماعتیں مختلف نقطہ نظر کی حامل ہیں اور ان کا یہ موقف ہے کہ پہلے لبنان اور اسرائیل کے درمیان زمینی حد بندی ہونی چاہیے اور اس کے بعد بحری حدود کا تعیّن کیا جانا چاہیے۔

ریما مکتبی نے ان سے پوچھا کہ لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری ایک معروف عرب چہرہ ہیں۔انھوں نے حال ہی میں عراق کا دورہ کیا ہے ۔اس مرحلے پر آپ ان کے اس دورے کو کیسے دیکھتے ہیں؟انھوں نے بتایا کہ گذشتہ برسوں کے دوران میں اسپیکر بری کو مختلف مواقع پر عراق کے دورے کے دعوت نامے موصول ہوئے تھے۔ تاہم وہ خود اس دورے کے لیے کسی مناسب وقت کے منتظر تھے۔ انھوں نے یہ دورہ ایک ایسے مرحلے پر کیا ہے جب بعض عرب ممالک اور ایران کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پائی جارہی ہے۔انھوں نے دورے کے موقع پر عراق کی عرب منظر نامے میں واپسی پر زور دیا ہے ۔ نیز یہ بات بھی زور دے کر کہی ہے کہ عراق عرب اور اسلامی دنیا کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ان کا اشارہ عرب ممالک اور ایران کے درمیان تعلقات کو معمول کی سطح پر لانے کے لیے عراق کی ثالثی کی جانب تھا۔

ان سے آخری سوال یہ پوچھا گیا کہ کیا موجودہ حالات کے تناظر میں لبنان کے خلاف کسی نئی جنگ کا امکان ہے ؟ لبنانی وزیر خزانہ نے کہا کہ مستقبل قریب میں تو ایسی کسی جنگ کا امکان نظر نہیں آرہا ہے، البتہ ان کے ملک کے خلاف دباؤ بڑھانے کی غرض سے معیشت اور زَر کے ذریعے ایک او ر طرح کی جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند