تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
خلیجی ملکوں نے اپنی سمندری حدود میں امریکی فوج تعیناتی کی منظوری دے دی
’’امریکی فوج کسی ملک کے خلاف جنگ نہیں بلکہ دفاعی حکمت عملی کے لئے تعینات ہو گی’’
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 شوال 1440هـ - 20 جون 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 13 رمضان 1440هـ - 18 مئی 2019م KSA 07:27 - GMT 04:27
خلیجی ملکوں نے اپنی سمندری حدود میں امریکی فوج تعیناتی کی منظوری دے دی
’’امریکی فوج کسی ملک کے خلاف جنگ نہیں بلکہ دفاعی حکمت عملی کے لئے تعینات ہو گی’’
خلیجی پانیوں میں امریکی بمبار
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب اور متعدد دوسرے خلیجی ممالک نے امریکا کی اس درخواست کو منظور کر لیا ہے جس میں واشنگٹن نے ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی فوج خلیجی ملکوں اور ان کی سمندری حدود میں تعینات کرنے کی اجازت مانگی تھی۔

پین عرب روزنامہ 'الشرق الاوسط؛ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ خلیج تعاون کونسل، جس میں سعودی عرب بھی شامل ہے، نے امریکی فوج کی خلیجی پانیوں میں تعیناتی کی باقاعدہ اجازت دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق خلیجی ملکوں کی طرف سے یہ اجازت امریکا کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں کی بنیاد پر دی گئی ہے جس کا مقصد خطے کو ایران کی طرف سے درپیش خطرات اور عرب ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ایرانی سازشوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات یقینی بنانا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عرب ممالک کے پانیوں اور ملکوں میں امریکی فوج کی تعیناتی کا پہلا محرک ایران کی کسی بھی فوجی جارحیت کے جواب میں خلیجی حکومتوں کے ساتھ مل کر تہران کو جواب دینا اور خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

’’الشرق الاوسط‘‘ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوج کی خطے میں موجودگی ایران پر چڑھائی یا جنگ نہیں بلکہ دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ایران کی طرف سے خطرے کی صورت میں امریکا اور اس کے خلیجی اتحاد مل کر لائحہ عمل اختیار کریں گے۔

عرب سفارتی ذرائع کے مطابق ماہ صیام کے آخری ایام میں مکہ معظمہ میں عرب سربراہ کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے عرب ملکوں کی حکومتوں کے درمیان رابطے مزید تیز ہو گئے ہیں۔

’’الشرق الاوسط‘‘ کے ذرائع کے مطابق مکہ معظمہ میں ہونے والی اسلامی سربراہ کانفرنس میں عرب اور مسلمان ممالک کی قیادت شرکت کرے گی۔ اس موقع پر عالمی اور علاقائی سطح پر ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے مسلمان ملکوں میں اتحاد اور ہم آہنگی مشترکہ ویژن اختیار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند