تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران کتنی مدت کے لئے آبنائے ہرمز میں آمد ورفت روک سکتا ہے؟ تحقیق سامنے آ گئی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 شوال 1440هـ - 20 جون 2019م
آخری اشاعت: بدھ 17 رمضان 1440هـ - 22 مئی 2019م KSA 09:53 - GMT 06:53
ایران کتنی مدت کے لئے آبنائے ہرمز میں آمد ورفت روک سکتا ہے؟ تحقیق سامنے آ گئی
آبنائے ہرمز سے گذرتا ہوا بحری جہاز
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ محاذ آرائی کے جلو میں جہاں فریقین ایک دوسرے پر الزامات اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف ایران نے عالمی طاقتوں‌ کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی بعض شرائط سے دست بردار ہونے، یورینیم افزودگی کی سطح بڑھانے کے ساتھ ساتھ خلیج کو بحر اومان سے ملانے والی تیل بردار جہازوں کی بین الاقوامی گذرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔

یہ دھمکی کس حد تک کار گر ہو سکتی ہے اور کیا ایران آبنائے ہرمز کو زیادہ دیر تک بند رکھ سکتا ہے؟۔ اسی حوالے سے لندن اسٹرٹیجک انسٹی ٹیوٹ کے مشرق وسطیٰ کے لیے پروگرام [IISS، Clément Therme] کے زیر اہتمام کی جانے والی تحقیق فرانسیسی اخبار 'لی موندے' میں شائع کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایران زیادہ دیر تک آبنائے ہُرمز بند نہیں رکھ سکتا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی زیادہ دیر بند نہ رہنے کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ امریکا کی عسکری بالا دستی ہے۔ اس وقت امریکا کا پانچواں بحری بیڑا خلیجی پانیوں میں موجود ہے۔ اس کے بعد ایران کے تیل پرعالمی منڈی تک رسائی پر پابندی ہے۔ ایران کے دو اہم اتحادی بالخصوص چین بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر ایران کی حمایت جاری نہیں رکھ سکے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کےلیے امریکا کا پیغام واضح ہے۔ وہ یہ کہ یا ایران اپنا تیل فروخت کرے گا یا اس یا کوئی ایک ملک بھی ایران سے تیل نہ خریدے۔ سنہ 2011ء اور 2012ء میں ایران پرعاید کی جانے والی پابندیوں کے دوران ایران آبنائے ہرمز میں آبی ٹریفک روکنے میں ناکام رہا ہے۔

مشکل کا شکار ایرانی حکومت

لی موندے کے نامہ نگار کے مطابق ایران آبنائے ہُرمز اس لیے بھی زیادہ دیر بند نہیں‌ رکھ سکتا کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں ایرانی حکومت خطرے میں پڑ جائے گی۔ ایسی صورت میں امریکا، ایران میں حکومت تبدیل کرنے کے لیے کوئی بھی کارروائی کر سکتا ہے۔ سنہ 2001ء میں افغانستان اور 2003ء میں عراق پرحملے کے بعد امریکا علاقائی جنگوں میں الجھ گیا مگر ایرانیوں کو سنہ 1980ء سے 1988ء کے دوران آٹھ سالہ عراق جنگ کا عرصہ یاد ہوگا۔

امریکا، ایران میں موجودہ اقتصادی بحران، خواتین اور شہری آزادیوں پر عاید کی جانے والی پابندیوں کو جواز بنا کر تہران کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے۔ فی الحال امریکا کی طرف سے ایران میں سیاسی نظام کی تبدیلی کا کوئی واضح اشارہ سامنے نہیں آیا۔ امریکا کی طرف سے ایرانی رجیم پر اپنے سلوک اور طرز عمل میں‌ تبدیلی پر زور دیا جاتا رہا ہے۔

ایرانی تیل پر پابندی

امریکا کی طرف سے ایرانی تیل کی عالمی منڈی تک رسائی پر مکمل پابندی کے بعد اس وقت ایران معاشی طور پر سخت مشکل میں ہے۔ یورپی ملکوں کی سطح پر ہونے والے انٹیلی جنس تحقیقات کے جائزوں کے مطابق امریکا کا اصل ہدف ایران پر اپنی شرائط تسلیم کرانے کے لیے دبائو ڈالنا ہے۔ جہاں تک ایران کی جنگی صلاحیت کا تعلق ہے تو وہ بنیاد پرست عناصر اور پاسداران انقلاب کی لیڈرشپ کے دعووں کے برعکس ہے۔ ایران کے پاس امریکا کا دفاعی اور جنگی میدان میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں۔ ایران کے جنگی وسائل بہت محدود ہیں۔

تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ ایران میں موجودہ عسکری بحران سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی دور کی طرح سنہ 2001ء سے 2009ء کی طرح کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ایران اور امریکا ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کریں گے؟ ایرانی سپریم لیڈر کھلے عام امریکا کے ساتھ ڈئیلاگ کو مسترد کر چکے ہیں۔ تاہم دونوں‌ ملکوں‌ کے درمیان پس پردہ سفارتی سطح پر بات چیت کی کوششیں ہو سکتی ہیں۔ یہ کوششیں غیر رسمی اور رسمی دونوں طرح ممکن ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند