تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران اور ترکی کی مداخلت سے شام کا بحران مزید پیچیدہ ہوا: ابوالغیط
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 ذوالحجہ 1440هـ - 24 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 8 شوال 1440هـ - 12 جون 2019م KSA 06:59 - GMT 03:59
ایران اور ترکی کی مداخلت سے شام کا بحران مزید پیچیدہ ہوا: ابوالغیط
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط
قاہرہ ۔اشرف عبدالحمید

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا ہے کہ ایران اور ترکی کی بے جا مداخلت نے شام میں جاری بحران کو مزید طول دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی سے قاہرہ میں ملاقات کے دوران عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ شام کی وحدت اور خود مختاری تمام عرب ممالک کا متفقہ مطالبہ ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ شام کے بحران کے طول پکڑنے کئی اسباب ہیں مگر ایران اور ترکی کی مداخلت کلیدی سبب ہے جس نے شام کے بحران کو مزید پیچیدہ کیا۔ آج شام کا بحران دنیا کا سب سے بڑا بحران بن چکا ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ شام میں 'سیف زون' کےقیام اور ادلب کے علاقے کے حوالےسے ترکی کی پالیسی سے شام کی صوبائی وحدت متاثر ہوئی ہے۔ ترکی کی مداخلت نے شام کی خود مختاری کو نقصان پہنچایا۔ اسی طرح شام کے مستقبل کے حوالے سے اسرائیلی مداخلت بھی نقصان دہ ثابت ہوئی۔ اب بھی اسرائیلی ریاست شام کے ایک بڑے رقبے پر قابض ہے۔

عرب لیگ سیکرٹری جنرل کے ترجمان محمود عفیفی نے کہا کہ احمد ابو الغیط سے ملاقات کےدوران امریکی ایلچی جیمز جیفری نے شام کے بحران ، خطے اور عالمی صورت حال پر عرب لیگ کے ویژن کے بارے میں جان کاری حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب لیگ اور امریکا شام میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے اور اعتدال اپوزیشن سمیت تمام قومی قوتوں کے اشتراک سے شام میں حکومت کی تشکیل کی تجویز سے متفق ہیں۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ شام کے بحران کےحوالے سے عرب لیگ کا موقف واضح ہے۔ تمام عرب ممالک شام میں جاری بحران کے حل کے حوالے سے 'جنیوا 1' اجلاس میں طے پائے نکات پرعمل درآمد پرزور دیتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کی وحدت تمام عرب ممالک اور عرب لیگ کی پہلی ترجیح ہے۔

ادھر امریکی مندوب نے مصری وزیرخارجہ سامح شکری سے بھی ملاقات کی۔ سامح شکری نے بھی شام کے بحران کے حوالے سے اپنے اصولی موقف سےآگاہ کیا اور کہا کہ مصر شام کی وحدت، سالمیت اور خود مختاری پر زور دیتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کے بحران کا حل تمام اعتدال پسند قوتوں کے اشتراک سے شام میں حکومت کا قیام ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند