تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
آبنائے ہرمز کا تین کلو میٹر کا علاقہ جس نے پوری دنیا پریشان کر رکھی ہے!
خطے میں کشیدگی سے تیل کی عالمی شہ رگ کو بند کرسکتی ہے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 16 ذیعقدہ 1440هـ - 19 جولائی 2019م
آخری اشاعت: اتوار 12 شوال 1440هـ - 16 جون 2019م KSA 06:51 - GMT 03:51
آبنائے ہرمز کا تین کلو میٹر کا علاقہ جس نے پوری دنیا پریشان کر رکھی ہے!
خطے میں کشیدگی سے تیل کی عالمی شہ رگ کو بند کرسکتی ہے
العربیہ ڈاٹ نیٹ

گذشتہ جمعرات کو خلیج عُمان میں دو تیل بردار جہازوں پر حملوں کے بعد ان پرجہازوں پرسوار 40 سے زاید افراد کو آبنائے ہرمز کی جنوب کی طرف نکالا گیا۔ آبنائے ہرمز اپنی تزویراتی اہمیت کے اعتبار سے پوری دنیا کے لیے تیل کی سپلائی میں شہ رگ کا درجہ رکھتی ہے۔

خلیج عُمان میں تیل بردار جہازوں پرحملوں‌ کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش کے خطرات ایک بار پھرزیربحث ہیں۔ آبنائے ہرمز کیا ہے اور یہ دنیا کے لیے کیوں کراہم ہے؟اس حوالے سے خبر رساں ایجنسی'رائیٹرز' کی ایک تجزیاتی رپورٹ‌ میں درج ذیل اہم نکات بیان کیے گئےہیں۔

۔۔ آبنائے ہرمز ایران اور سلطنت عُمان کو ایک دوسرے سے جدا کرتی اور خلیج عُمان کو بحر عرب کےساتھ ملاتی ہے۔
۔۔ آبنائے ہرمز کی لمبائی 33 کلو میٹر اور اس کا انتہائی تنگ علاقہ صرف 3 کلو میٹر ہے۔

۔۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کے متبادل تیل سپلائی روٹس اختیار کرنے کی کوشش کی۔ دونوں‌ ملکوں‌ نے دوسرے روٹس سے تیل پائپ لائن بچھانے کے منصوبےشروع کیے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے کام کرنے والی کمپنی 'فوٹیکسا' نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا کا پانچ فی صد تیل آبنائے ہرمز سے گذرتاہے۔ دوسرے الفاظ میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے یومیہ 10 کروڑ 74 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ سنہ 2018ء میں 100 ملین بیرل تیل یومیہ یہاں سے گذرتا رہا۔

متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، عراق اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم'اوپیک' کے بیشتررکن ملکوں تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گذرتےہیں۔

سیاسی کشیدگی

امریکا نے ایران پر اس کے تیل کی درآمدات پر پابندی عاید کرتےہوئے ایرانی تیل کو آبنائے ہرمز سے گذرنے سے روک دیا۔

ایران نے جوابی دھمکی دی کہ اگر امریکا نے اس کی معیشت کا گلہ گھونٹے کی کوشش کی تو وہ آبنائے ہرمزسے تیل بردار جہازوں کو گذرنے سے روک دے گا۔

اس دھمکی کے بعد امریکا کا پانچواں بحری بیڑہ خلیج میں پہنچ گیا تاکہ تجارتی اور تیل بردار جہازوں کو ایرانی حملوں کے خطراتے سے بچایا جاسکے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند