تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مصر کے سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کمرا عدالت میں چل بسے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 16 ذیعقدہ 1440هـ - 19 جولائی 2019م
آخری اشاعت: پیر 13 شوال 1440هـ - 17 جون 2019م KSA 20:36 - GMT 17:36
مصر کے سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کمرا عدالت میں چل بسے!
مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق عدالت میں مقدمے کی سماعت کے بعد ڈاکٹر محمد مرسی کی حالت اچانک بگڑ گئی تھی اور وہ وہیں دم توڑ گئے۔
قاہرہ ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

مصر کے سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کمرا عدالت میں اچانک حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے ہیں۔ان کی عمر سڑسٹھ سال تھی۔

مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق ڈاکٹر محمد مرسی سوموار کو قاہرہ میں ایک عدالت میں اپنے خلاف جاسوسی کے مقدمے کی سماعت کے دوران میں جج کے روبرو دلائل دے رہے تھے۔اس دوران میں ان کی حالت اچانک بگڑ گئی ،وہ وہیں گر گئے اور پھر دم توڑ گئے۔ ان کی میت اسپتال میں منتقل کردی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف مختلف الزامات کی پاداش میں مقدمات چلائے جارہے تھے اور اس وقت وہ 2012ء میں صدارتی انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی میں مبیّنہ غلط بیانی کے جرم میں سات سال کی قید بھگت رہے تھے۔

وہ مصر کی قدیم مذہبی سیاسی جماعت ( اب کالعدم )الاخوان المسلمون کے امیدوار کی حیثیت سے جون 2012ء میں ملک کے جمہوری طور پر پہلے صدر منتخب ہوئے تھے لیکن ان کی حکومت کے خلاف چند ماہ کے بعد ہی ملک میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ 30 جون 2013ء کو ہزاروں افراد نے دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کے خلاف مظاہرے کیے تھے اور انھیں ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

تب مصر کی مسلح افواج کے سربراہ ( موجودہ صدر )عبدالفتاح السیسی نے ڈاکٹر مرسی کو ’’عوام کے مطالبات‘‘ کو پورا کرنے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ پھر تین جولائی 2013ء کو انھیں صدارت سے معزول کردیا تھا ، ان کی حکومت ختم کردی تھی اور انھیں ان کے سرکردہ وزراء سمیت گرفتار کر کے پس دیوارِ زنداں کردیا تھا۔

فوجی سربراہ کے صدر مرسی کو معزول کرنے کے فیصلے کے خلاف اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی جماعتوں نے سخت احتجاج کیا تھا اور انھوں نے قاہرہ میں دومقامات پر قریباً ڈیڑھ ماہ تک دھرنے دیے رکھے تھے۔ان دھرنوں کے خلاف مصری فورسز نے 14 اگست 2013ء کو سخت کریک ڈاؤن کیا تھا اور اخوان اور دوسری جماعتوں کے چھے،سات سو کارکنان کو تشدد آمیز کارروائیوں میں ہلاک کردیا تھا۔

عبدالفتاح السیسی فوج سے سبکدوش ہونے کے بعد 2014ء میں ملک کے منتخب صدر ہوگئے تھے۔تب جن گروپوں اور کارکنان نے ان کے حق میں مظاہرے کیے تھے،بعد میں وہ بھی ان کی حکومت کے عتاب کا شکار ہوگئے تھے کیونکہ وہ ان کی مطلق العنانیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ڈاکٹر مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد مصری فورسز کی کریک ڈاؤن کارروائیوں میں ہزاروں افراد کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کردیا گیا تھا۔ان میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف 2011ء میں عوامی احتجاجی تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے سیکولر کارکنان بھی شامل تھے۔

مقدمات اور سزائیں

قاہرہ کی ایک فوج داری عدالت نے جون 2015ء میں ڈاکٹر محمد مرسی کو سنہ 2011ء کے اوائل میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران میں ایک جیل کو توڑنے کے مقدمے میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے اسی مقدمے میں الاخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع ، نائب مرشدعام خیرت الشاطر ،سینیر رہ نماؤں محمد البلتاجی اور محمد عبدالعاطی کو بھی سزائے موت سنائی تھی۔اس مقدمے میں تیرہ دیگر مدعاعلیہان کو ان کی عدم موجودگی میں موت کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ یاد رہے کہ حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران میں ڈاکٹر محمد مرسی اور اخوان کے دیگر سینیر رہ نما جیلوں میں قید تھے اور ان میں سے بعض کو حملے کرکے رہا کرا لیا گیا تھا۔عدالت نے اس فیصلے کو توثیق کے لیے مفتیِ اعظم مصر شوقی علام کو بھیجا تھا اور انھوں نے جائزہ لینے کے بعد عدالتی فیصلے کی توثیق کردی تھی۔

اسی فوجداری عدالت نے انھیں قومی سلامتی سے متعلق دستاویزات چُرانے اور انھیں قطر کے حوالے کرنے کے الزام میں قصور وار قرار دیا تھا اور انھیں عمر قید کی سزا سنائی تھی اور اعلیٰ اپیل عدالت نے ان کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔

تاہم واضح رہے کہ ایک اپیل عدالت نے کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر مرسی کو سنائی گئی پھانسی کی تمام سزائیں کالعدم قرار دے دی تھیں اور انھیں تختہ دار پر لٹکانے کا کوئی خدشہ نہیں رہا تھا۔البتہ انھیں جاسوسی اور دوسرے مقدمات میں سنائی گئی قید کی لمبی سزائیں برقرار رکھی گئی تھیں اور وہ اس وقت جیل کاٹ رہے تھے۔

مصری عدالتوں کے ان فیصلوں کے خلاف عالمی سطح پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔اقوام متحدہ نے تب ایک بیان میں کہا تھا کہ اس طرح تھوک کے حساب سے سزائے موت سنانے کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی ۔ الاخوان المسلمون کے ایک سینیر رہ نما کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں کے ذریعے مصر میں جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی ہے۔

مصری حکومت نے ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد الاخوان المسلمون کے حامیوں ،دوسری جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کارکنان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا تھا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومین رائٹس واچ کے مطابق ڈاکٹر مرسی کی برطرف کے بعد ایک سال کے عرصے میں کم سے کم چالیس ہزار افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ بعد میں ان کے خلاف مصری عدالتوں میں غداری اور دوسرے الزامات میں اجتماعی مقدمات چلائے گئے تھے۔ان میں سے سیکڑوں کو سزائے موت یا لمبی مدت کی قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند