تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکی پابندیوں کے بعد پاسداران انقلاب عراق، شام سے فنڈ جمع کرنے کے لئے کوشاں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 16 صفر 1441هـ - 16 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 14 شوال 1440هـ - 18 جون 2019م KSA 09:38 - GMT 06:38
امریکی پابندیوں کے بعد پاسداران انقلاب عراق، شام سے فنڈ جمع کرنے کے لئے کوشاں
لندن ۔ صالح حمید

امریکا کی جانب سے ایران پرعاید کردہ کڑی پابندیوں کے بعد سپاہ پاسداران انقلاب کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے پاسداران انقلاب عراق اور شام میں‌ موجود اپنے حامی گروپوں سے مدد کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔

امریکی خبار'وال اسٹریٹ جرنل' کی رپورٹ کے مطابق امریکی پابندیوں میں سختی اور ایرانی معیشت کا گلہ گھونٹے جانے کے بعد پاسداران انقلاب کو رقوم کے حصول میں بہت مشکل پیش آ رہی ہے۔ اس مشکل سے نمٹنے کے لیے پاسداران انقلاب نے رقم کے حصول کے نئے ذرائع تلاش کرنا شروع کیے ہیں۔ ان نئے ذرائع میں شام، عراق اور بعض دوسرے ملکوں میں موجود ایرانی حمایت یافتہ گروپ بھی شامل ہیں جن سے مدد لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امریکی اخبار میں اتوار کے روز شائع کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب امریکی پابندیوں کو غیر مؤثر بنانے کے لیے متبادل مالی ذرائع کے حصول کے لیے سرگرم ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور خلیج عُمَان میں حالیہ ایام میں تیل بردار جہازوں‌ پر ہونے والے حملوں کے بعد پاسداران انقلاب کو ایک نئے اور سخت چیلنج کا سامنا ہے۔

امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران اس وقت سخت معاشی دبائو میں ہے۔ ایسے حالات میں پاسداران انقلاب نے شام اور عراق میں نئے مالی ذرائع تلاش کرنا شروع کیے ہیں۔ اسمگلنگ نیٹ ورک کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ پاسداران انقلاب کے حوالے سے امریکی مشیروں اور ماہرین اقتصادیات نے امریکی حکومت کو مطلع کیا ہے کہ پابندیوں‌ نے پاسداران انقلاب کو غیر معمولی طور پر متاثر کیا ہے۔

جنگ کا خطرہ

خطے میں ایران کی معاندانہ سرگرمیوں میں اضافے کے بعد فوجی محاذ آرائی کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ گذشتہ جمعرات کو خلیج عُمَان میں ناروے اور جاپان کے دو تیل بردار جہازوں پر حملوں کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل بردار جہازوں پر حملوں‌ میں براہ راست ایران کو مورد الزام ٹھہرایا ہے مگر ایران نے امریکی الزامات مسترد کر دیے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گذشتہ ایک ہفتے سے ایران کے خلاف عالمی حمایت حاصل کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئل ٹینکروں‌ پر حملوں میں ایران کے علاوہ کسی اور کا ہاتھ نہیں ہو سکتا۔

'فاکس نیوز' کو دیے گئے انٹرویو میں پومپیو نے کہا کہ تیل بردار جہازوں پر ایران کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید اور ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

دوسری جانب ایران نے امریکا پر جوابی الزام عاید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جنگ کے لیے حیلے بہانے تلاش کر رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ تیل بردار جہازوں پر حملے خود امریکا کرا رہا ہے اور ان کا الزام ایران پر عاید کرکے جنگ چھیڑنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قراردینا

ایرانی پاسداران انقلاب کی اشتعال انگیزی میں اس وقت اضافہ ہوا ہے جب گذشتہ ماہ امریکا نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور اس کے بعد ایرانی تیل کی درآمدات پر پابندی عاید کردی۔

مارچ 2019ء کو امریکی وزارت خزانہ نے پاسداران انقلاب کے ملکیتی 'انصار بنک' کو بلیک لسٹ کردیا تھا جس کے بعد رقوم کی ترسیل کا ایک بڑا راستہ بند ہو گیا۔ پاسداران انقلاب کی سمندر پار عسکری کارروائیوں کی ذمہ دار' فیلق القدس' ملیشیا کو اسی بنک کے ذریعے تن خواہیں ادا کی جاتی تھیں۔ القدس ملیشیا میں مشرق وسطیٰ، پاکستان، افغانستان، عراق، لبنان اور شام کے جنگجو شامل ہیں۔

شام اور عراق میں اقتصادی سرگرمیاں

پاسداران انقلاب نے مالی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک طرف اسمگلنگ کا راستہ اختیار کیا اور دوسری طرف شام اور عراق میں‌ اپنی اقتصادی سرگرمیاں اور تجارتی نیٹ ورک میں اضافہ کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے انجینیرنگ 'خاتم الانبیاء' کو گذشتہ برس شام میں کئی اہم منصوبوں کے ٹھیکے دلوائے گئے۔

عراق میں خاتم الانبیاء کو بغداد، البصرہ بندرگاہ اور دیگر مقامات پر تیل اور گیس پائپ لائنیں بچھانے کے ٹھیکے اور پانی کے منصوبے دیے گئے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پاسداران انقلاب کے سابق ارکان کا کہنا ہے کہ ایران تیل کی بیرون ملک اسمگلنگ کے ذریعے پیسے جمع کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ پاسداران انقلاب ایران کے اندر سگریٹ اور دوسری تجارتی اشیاء کی ترسیل کے ذریعے بھی رقم جمع کرنے کے لیے کوشاں‌ ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند