تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حوثیوں کےہاتھوں امدادی سامان کی لوٹ مار، عالمی ادارہ خوراک کا ایک بار پھر انتباہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 15 محرم 1441هـ - 15 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 14 شوال 1440هـ - 18 جون 2019م KSA 06:58 - GMT 03:58
حوثیوں کےہاتھوں امدادی سامان کی لوٹ مار، عالمی ادارہ خوراک کا ایک بار پھر انتباہ
العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ

عالمی ادارہ خوراک کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا کے ہاتھوں امدادی سامان کی لوٹ اور غبن کے بڑھتے واقعات کےباعث حوثیوں کے زیر تسلط علاقوں میں امدادی کارروائیاں بند ہونے کا اندیشہ ہے۔ بین الاقوامی فوڈ پروگرام کی طرف سے حوثی ملیشیا پر زور دیا ہے کہ وہ امداد کے حصول اور شفافیت کو یقینی بنانےکے لیے 20 جون تک تمام ضروری قانونی تقاضے پورےکریں ورنہ عالمی ادارہ امداد کی فراہمی بند کردے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں کی طرف سے امداد کی تقسیم کی شفافیت کی ضمانت نہ دی گئی تو صنعاء سمیت دیگر علاقوں میں امداد کی فراہمی بہ تدریج روک دی جائے گی۔ تاہم ویکسی نیشن، خواتین اور بچوں کی خوراک اس میں شامل نہیں ہوگی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی ادارہ خوراک کی طرف سے جاری خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ امداد دینے والے ممالک کو اندیشہ کہ حوثیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں امداد کی فراہمی معطل ہونے سے خوراک کا خطرناک بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہےکہ حوثیوں‌ کے قبضے میں آنےوالے علاقوں میں امداد مستحق لوگوں تک نہیں پہنچ رہی بلکہ حوثی جنگجو اس کی لوٹ مار کررہے ہیں۔

عالمی ادارہ خوراک کی طرف سے 13 جون کو جاری کردہ مکتوب میں حوثیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ امداد کےحصول کے لیے بائیو میٹرک طریقہ کار اپنائیں تاکہ امداد کی فراہمی اور حصول کو شفاف بنایا جا سکے۔

عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ پیزلی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سےخطاب میں کہا کہ اگر یمن میں حوثیوں کی طرف سے امدادی سامان کی لوٹ جاری رہتی ہے تو ادارہ امدادی سامان کی ترسیل عارضی طورپر بہ تدریج روک سکتا ہے۔

قبل ازیں ان کی طرف سے حوثیوں کی سپریم سیاسی کونسل کے چیئرمین مھدی المشاط کو ارسال کردہ انتباہی مکتوب میں خبردارکیا گیا تھا کہ لوٹ مار کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو امدادی آپریشن آگے نہیں بڑھ سکتا۔

امدادی پروگرام کے ترجمان نے جنیوا میں'اے ایف پی' کو بتایا کہ عالمی ادارے کی طرف سے حوثیوں کو گذشتہ برس دسمبر کےبعد اپنی نوعیت کا یہ دوسرا انتباہی مکتوب ہے۔

مکتوب میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارہ خوراک کو امدادی سامان کی لوٹ مار اور مستحق شہریوں‌کو محروم رکھے جانے سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔ حوثیوں کےزیرقبضہ علاقوں میں امدادی سامان کی بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور غبن کی خبروں‌نے امدادی آپریشن کو متاثر کیا۔

پیزلی کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتوں کے دوران حوثی جنگجوئوں کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں‌کی وجہ سے بھی امدادی آپریشن آگے نہیں بڑھایا جاسکا۔

عالمی ادارے کے مطابق اس وقت یمن میں جنگ کے باعث 33 لاکھ شہری بے گھر ہیں۔ یمن کے دو کروڑ 41 لاکھ افراد جو آبادی کا دو تہائی ہے کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند