تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حوثی باغیوں کی سعودی عرب پر بمبار ڈرون طیاروں سے حملے کی کوشش ناکام
سعودی فضائی حدود میں حوثیوں کے دو ڈورن طیارے تباہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 15 ربیع الثانی 1441هـ - 13 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 14 شوال 1440هـ - 18 جون 2019م KSA 09:25 - GMT 06:25
حوثی باغیوں کی سعودی عرب پر بمبار ڈرون طیاروں سے حملے کی کوشش ناکام
سعودی فضائی حدود میں حوثیوں کے دو ڈورن طیارے تباہ
کرنل ترکی المالکی
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کی ایئر ڈیفنس فورس اور عرب اتحادی فوج نے منگل کو رات گئے یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے بمبار ڈرون طیاروں کے ذریعے حملے کی سازش ناکام بناتے ہوئے دونوں ڈرون طیارے مار گرائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن میں‌ آئینی حکومت کی معاونت کرنے والے عرب عسکری اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ایک نیوز کانفرنس میں‌ بتایا حوثی باغیوں کے دو ڈرون طیارے سوموار اور منگل کی درمیانی شب کو سعودی عرب کی فضاء میں داخل ہونے کے بعد مار گرائے گئے۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی 'ایس پی اے' کی جانب سے جاری بیان میں کرنل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ ایک ڈرون طیارہ منگل کی رات 10 بج کر 37 منٹ پر مار گرایا۔ بمبار ڈورن عرب اتحادی فوج نے حملے سے قبل ہی تباہ کر دیا۔ اسے حوثی دہشت گردوں کی طرف سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے لیے سعودی عرب کی فضائی حدود میں داخل کیا گیا تھا۔

دوسرا ڈرون طیارہ رات گیارہ بج کر 47 منٹ پر سعودی عرب کی فضائی حدود میں تباہ کیا گیا۔ دونوں طیاروں میں‌ بارود اور دھماکا خیز مواد لدا ہوا تھا۔

کرنل المالکی نے کہا کہ حوثی دہشت گرد اپنے جرائم کو آگے بڑھانے کے لیے سعودی عرب کے شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں تاہم عرب اتحادی فوج اور سعودی دفاعی فورسز حوثیوں کی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔

ادھر کل سوموار کے روز سلامتی کونسل کے اجلاس میں سعودی عرب پر حملوں میں‌ ملوث عناصر اور ان کے مالی معاونت کاروں کا محاسبہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

سلامتی کونسل کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم ابھا کے ہوائی اڈے پر حملے میں سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔ ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے۔‘‘ سلامتی کونسل نے سعودی عرب کے ابھا ہوائی اڈے پر حملے کو عالمی امن وسلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند