تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب کا فلسطین میں‌ یہودی آباد کاری روکنے کی قراردادوں پرعمل درآمد کا مطالبہ
سوڈان میں عوامی امنگوں کا احترام کیا جائے:اسامہ نقلی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 19 ذیعقدہ 1440هـ - 22 جولائی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 15 شوال 1440هـ - 19 جون 2019م KSA 07:19 - GMT 04:19
سعودی عرب کا فلسطین میں‌ یہودی آباد کاری روکنے کی قراردادوں پرعمل درآمد کا مطالبہ
سوڈان میں عوامی امنگوں کا احترام کیا جائے:اسامہ نقلی
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب نے فلسطین میں اسرائیلی توسیع پسندی اور یہودی آباد کاری کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے یہودی آباد کاری کی روک تھام کےلیے اقوام متحدہ کی منظورکردہ قراردادوں پرعمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق مصر میں سعودی عرب کے سفیر اور عرب لیگ میں مستقل مندوب اسامہ بن احمد نقلی نے ابو ظبی میں منعقدہ پانچویں سیاسی تزویراتی ڈائیلاگ کے اجلاس سے خطاب میں سنہ 2016ء کو سلامتی کونسل کی طرف سے منظور کردہ قرارداد 2334 اور فلسطین میں یہودی آباد کاری روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی دوسری تمام قراردادوں‌ پرعمل درآمد کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں‌ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنے سفارت خانے بیت المقدس منتقل نہ کرے اور القدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم نہ کرے۔

اسامہ نقلی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دیر پا امن کے قیام کے لیے مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ضروری ہے۔ فلسطین ۔ اسرائیل تنازع کے حل کے لیے عرب ممالک نے سنہ 2002ء میں بیروت سربراہ کانفرنس کے موقع پر ایک امن روڈ میپ جاری کیا تھا جسے اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے بھی حمایت حاصل ہے۔

انہوں‌نے کہا کہ قضیہ فلسطین سعودی عرب کے لیے انتہائی اہمیت کاحامل اور پوری عرب دنیا کا مرکزی مسئلہ ہے۔ اس ضمن میں عرب ممالک نے سنہ 2002ء میں جوامن روڈ میپ پیش کیا تھا وہ موجودہ حالات میں مسئلہ فلسطین کامناسب اور قابل قبول حل ہے۔ اس میں القدس کواسرائیل کے بجائے فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کےعلاوہ تنازع کے دو ریاستی حل کو نقصان پہنچانے والے اسرائیل کےیک طرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کی گئی ہے۔

اسامہ نقلی نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کے حل اورفلسطین میں‌یہودی آباد کاری کی روک تھام بالخصوص سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 پر فوری طورپر عمل درآمد پر زور دیا۔ اسامہ نقلی نے کہا کہ عالمی برادری اپنے سفارت خانے القدس منتقل نہ کرے اور القدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قراردینے کی مساعی میں عرب ممالک کا ساتھ دے۔ سعودی سفیرنے قضیہ فلسطین کے حوالے سے چین کے جرات مندانہ موقف کی بھی تحسین کی اور کہا کہ عرب ممالک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنائے جانے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔

انہوں‌نے یمن میں حوثیوں‌کی تخریب کارانہ سرگرمیوں اور سعودی عرب پر حملوں‌ شدید مذمت کی۔ انہوں‌نے یمن میں آئینی حکومت کی حمایت میں منظور کی گئی عالمی قراردادوں پربھی عمل درآمد پر زور دیا اورکہا کہ عرب ممالک پر مشتمل اتحاد یمن کی خود مختاری، امن اور استحکام کا ضامن ہے۔ انہوں‌نے یمن کے حوالے سے منظور کردہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 اور 2452 پر فوری عمل درآمد پر زور دیا۔

سعودی سفیرنے شام کی موجودہ صورت حال اور سوڈان میں جاری کشیدگی پر بھی بات چیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں عوامی امنگوں کے مطابق حکومت کی تشکیل وہاں پر جاری بحران کا بہتر حل ہے۔ انہوں‌نے سوڈان میں تبدیلی کے عوامی فیصلے کی حمایت کی اور کہا کہ سوڈانی عوام کے رائے کا احترام کیا جانا چاہیے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند