تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مصر کا اقوام متحدہ پر سابق صدر ڈاکٹر مرسی کی فطری موت کو سیاسی رنگ دینے کا الزام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 16 ذیعقدہ 1440هـ - 19 جولائی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 15 شوال 1440هـ - 19 جون 2019م KSA 17:36 - GMT 14:36
مصر کا اقوام متحدہ پر سابق صدر ڈاکٹر مرسی کی فطری موت کو سیاسی رنگ دینے کا الزام
قاہرہ ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ،ایجنسیاں

مصر نے اقوام متحدہ پر سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی کمرا عدالت میں موت کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کا الزام عاید کیا ہے۔اقوام متحدہ نے مصر کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی موت کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

مصر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان احمد حافظ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے ترجمان روپرٹ کول ویل کے مرسی کی موت کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ’’یہ ایک فطری موت کے معاملے کو جان بوجھ کر سیاسی رنگ دینے کی کوشش ہے‘‘۔

42الفاظ پر مشتمل خبر

ڈاکٹر محمد مرسی سوموار کے روز دارالحکومت قاہرہ میں اپنے خلاف جاسوسی کے مقدمے کی سماعت کے دوران میں کمرا عدالت میں اچانک حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے تھے۔انھوں نے دم توڑنے سے قبل عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی صحت خراب ہے اور انھیں طبی سہولتیں مہیا نہیں کی جارہی ہیں۔

مصری حکومت کے محکمہ اطلاعات نے ان کے انتقال کی 42 الفاظ پر مشتمل خبرتمام میڈیا اداروں اور چینلوں کو وٹس ایپ کے ذریعے بھیجی تھی اور اس میں مرحوم کے مصر کا سابق صدر ہونے کا کوئی حوالہ نہیں تھا۔ایک ٹی وی چینل کی نیوزکاسٹر نے ٹیلی پرامپٹر سے خبر پڑھتے ہوئے آخر میں اپنے ناظرین کو غلطی سے یہ بھی مطلع کر دیا تھا کہ یہ خبر ’’سام سنگ ڈیوائس‘‘ سے بھیجی گئی تھی۔

مصر کے بیشتر اخبارات نے ان کی وفات کی خبر کو اندرونی صفحات میں ایسے انداز میں شائع کیا تھا جیسے کسی عام مصری شہری کا انتقال ہوگیا ہے اور معاشرے میں اس کی کوئی جان پہچا ن نہیں تھی.صرف ایک آزاد روزنامے المصری الیوم نے ان کی وفات کی خبر صفحہ اول پر شہ سرخی کے ساتھ شائع کی تھی۔العربیہ نیوز چینل سمیت عالمی میڈیا نے اس خبر کو نمایاں انداز میں شائع اور نشر کیا تھا ۔

مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق ڈاکٹر محمد مرسی سوموار کو قاہرہ میں ایک عدالت میں اپنے خلاف جاسوسی کے مقدمے کی سماعت کے دوران میں جج کے روبرو دلائل دے رہے تھے۔اس دوران میں ان کی حالت اچانک بگڑ گئی ،وہ وہیں ڈھے پڑے اور پھر دم توڑ گئے تھے۔ ان کی میت اسپتال میں منتقل کی تھی اوراس کے کوئی دس منٹ کے بعد حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر ان کی موت کی خبر میڈیا اداروں کو بھیجی گئی تھی۔

ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف مختلف الزامات کی پاداش میں مقدمات چلائے جارہے تھے اور موت سے قبل وہ 2012ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی میں مبیّنہ غلط بیانی کے جرم میں سات سال کی قید بھگت رہے تھے۔وہ مصر کی قدیم مذہبی سیاسی جماعت ( اب کالعدم )الاخوا ن المسلمون کے امیدوار کی حیثیت سے جون 2012ء میں ملک کے پہلے صدر منتخب ہوئے تھے لیکن ان کی حکومت کے خلاف چند ماہ کے بعد ہی ملک میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ 30 جون 2013ء کو ہزاروں افراد نے دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کے خلاف مظاہرے کیے تھے اور انھیں ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

تب مصر کی مسلح افواج کے سربراہ ( موجودہ صدر )عبدالفتاح السیسی نے ڈاکٹر مرسی کو ’’عوام کے مطالبات‘‘ کو پورا کرنے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ پھر تین جولائی 2013ء کو انھیں صدارت سے معزول کردیا تھا اور انھیں ان کے سرکردہ وزراء سمیت گرفتار کر کے پس دیوارِ زنداں کردیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند