تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اخوان المسلمون کی مخصوص لغت اوراصطلاحات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 20 ذوالحجہ 1440هـ - 22 اگست 2019م
آخری اشاعت: منگل 6 ذیعقدہ 1440هـ - 9 جولائی 2019م KSA 08:49 - GMT 05:49
اخوان المسلمون کی مخصوص لغت اوراصطلاحات
قاہرہ ۔ اشرف عبدالحمید

عرب دنیا کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت کے فکر وفلسفے کے ساتھ ساتھ اس کے ہاں بعض ایسی اصطلاحات بھی مروج ہیں جو جماعت سے وابستہ افراد اور کیڈر کے باہمی رابطے کا ذریعہ ہونے کے ساتھ اخوان کے سیاسی اور مذہبی فلسفے کا بھی عکاسی کرتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں اخوان المسلمون کے ہاں شروع سے آج تک مروج مشہور الفاظ اور اصطلاحات پر روشنی ڈالی ہے۔

یہ اصطلاحات جماعت کے تنظیمی، انتظامی، جماعت میں‌ بھرتی کے نظام، اس سے منسلک اور غیر منسلک افراد کے بارے میں مختص ہیں۔

مصر میں مذہبی جماعتوں کے امور کے ماہر دانشور ماھر فرغلی نے 'العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے اخوان کے ہاں مخصوص مروج اصطلاحات پر روشنی ڈالی۔

ان اصطلاحات میں ایک اصطلاح 'ربط العام' کہلاتی ہے۔ اس کا معنیٰ ہےکہ جماعت کے ساتھ ہمدردی کرنے والے۔ 'ربط الخاص' ان لوگوں کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے جو عن قریب جماعت میں شامل ہوں گے۔'دعوۃ' سے مراد عام اخوان جماعت مراد لی جاتی ہے۔'سھم الدعوہ' جماعت کے خزانہ اور مالیاتی امور کے لیے بولی جانے والی اصطلاح کہلاتی ہے۔

امام اور الاستاذ

اخوان المسلمون کے ہاں ایک اصطلاح 'اخ' یعنی بھائی کی استعمال کی جاتی ہے۔ اس سے مراد جماعت کا ہر رکن ہے اور ارکان کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا جاتا ہے۔'اشبال' جماعت کے کم عمر افراد کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دو ایسی اصطلاحات ہیں جو ایک وقت میں ایک سے زایدہ افراد کے لیے استعمال نہیں کی جاتیں۔ مثلا 'الاستاذ' کی اصطلاح اخوان کے مرشد عام کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جب کہ 'الامام' کی اصطلاح اخون المسلمون کے بانی حسن البناء کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور انہیں شہید امام حسن البناء بھی کہا جاتا ہے۔

فرغلی کا کہنا ہے کہ حسن البنا نے 'ماثورات' کی اصطلاح بھی متعارف کرائی۔ اس سے مراد اذکار نبوی اور ادعیہ ماثورہ ہیں جنہیں جماعت کے ارکان صبح اور شام کےاوقات میں باقاعدگی کے ساتھ وظیفے کے طور پر پڑھتے ہیں۔'الرسائل' کی اصطلاح جماعت کے منہج کے حوالے سے حسن البناء کے پیغامات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

اقتدار کے لیے'تمکین' کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اخوان کا دعویٰ ہے کہ وہ زمین پر غلبہ اسلام اور اسلام کو تخت پرلانے کے لیے کوشاں ہے۔'التربیہ' کی اصطلاح جماعت کے تعلیمی نظام کے لیے مختص ہے۔ جماعت کے نظام کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے 'تعزیر' کی اصطلاح ہے۔ جماعت کی ذمہ داری میں‌ کوتاہی برتنے پر جسمانی سزا، سرزنش اور جرمانہ بھی کیا جاتا ہے۔

'خبث' اور 'عوام'

فرغلی کا کہنا ہے کہ اخوان کے ہاں ایک اصطلاح 'ثقۃ' یعنی قابل اعتماد کے لیے بولی جاتی ہے۔ یہ جماعت کے ہر اس رکن اور رہ نما کے لیے عام استعمال کی جاتی ہے جس پر اندھا اعتبار کیا جا سکے۔'تناجی' سے مراد جماعت پر تنقید نہیں‌ کی جا سکتی۔ 'عوام' کی اصطلاح جماعت سے باہر ہرشخص کے لیے عام استعمال کی جاتی ہے۔ جب کہ 'خبث' کی اصطلاح ان لوگوں کے لیے ہے جو جماعت سے مںحرف ہو جاتے ہیں۔'مسجد ضرار' ہر اس دینی ادارے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو جماعت کے خلاف ہو یا جس پرجماعت کا کوئی اثر ونفوذ نہ ہو۔

فرغلی کا کہنا ہے کہ 'الصف' سے مراد جماعت کا نظم ہے۔ اگر کوئی جماعت کے نظم سے الگ ہو جاتا ہو تو اس کے لیے 'ترک الصف' کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔'نقیب' خاندان کے ذمہ دار کے لیے اور 'کتیبہ' سے مراد وہ شخص جو کئی سال جماعت کے ساتھ وابستگی میں گذار دے۔
 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند