تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ادلب میں اسدی فوج اور اپوزیشن فورسز میں‌ گھمسان کی لڑائی، لاشوں کے انبار لگ گئے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 8 ذیعقدہ 1440هـ - 11 جولائی 2019م KSA 20:17 - GMT 17:17
ادلب میں اسدی فوج اور اپوزیشن فورسز میں‌ گھمسان کی لڑائی، لاشوں کے انبار لگ گئے
بیروت ۔ ایجنسیاں

شام میں انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق شمال مغربی شہر ادلب میں بشارالاسد کی وفادار فوج اور اپوزیشن فورسز کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے جس کے نتیجے میں اب تک دونوں طرف 71 افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے'آبزر ویٹری' کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ گذشتہ شب ادلب میں شروع ہونے والی لڑائی میں دونوں طرف سے بھاری جانی نقصان کی اطلاعات ملی ہیں۔

خیال رہے کہ 30 لاکھ افراد پر مشتمل آبادی والے شہر ادلب پر اسدی فوج گذشتہ دو ماہ سے باغیوں اور اپوزیشن کی حامی فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہی ہے۔ ادلب میں لڑائی کے ساتھ ساتھ شمالی شہر حماۃ میں‌ بھی لڑائی کی خبریں آئی ہیں۔

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب شمالی مغربی حماۃ اور الحمامیت کے مقامات پر قبضے کے لیے فریقین کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی۔ ادلب میں ہونے والی خون ریز جھڑپوں میں 71 افراد کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

انسانی حقوق آبزرور رامی عبدالرحمان نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ ادلب میں اسدی فوج اور اپوزیشن کی حامی فورسز کے درمیان جمعرات کودن بھر جھڑپیں جاری رہیں۔ اسدی فوج نے ادلب کے مختلف مقامات پر توپ خانے سے بھی گولہ باری کی۔

ادھر کرناز کے مقام پر اپوزیشن کی حامی فورسز کے حملے میں ایک خاتون جب کہ اللطامنہ میں روسی بمباری سے ایک عام شہری مارا گیا۔

تحریر شام محاذ کے ترجمان ابو خالد الشامی نے بتایا کہ لڑائی کا آغاز الحمامیات کے مقام پر اسدی فوج کے ٹھکانوں سے ہوا۔ اسدی فوج نے الحمامیات اور اس کے تزویراتی ٹیلوں پر قبضہ کرنے کے بعد اپوزیشن کی حامی فورسز کے ٹھکانوں‌ پر بمباری شروع کی۔

خیال رہے کہ حماۃ کے شمالی علاقے گذشتہ کئی ہفتوں سے اسدی فوج اور اپوزیشن کے درمیان میدان جنگ بنے ہوہے ہیں۔ جون میں تین روز تک جاری رہنے والی لڑائی میں 250 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اپریل میں بشارالاسد اور روسی فوج کی بمباری کے نتیجے میں 550 شہری جاں‌بحق ہوگئے تھے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند