تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شامی کردوں کا جنیوا اور ریاض مذاکرات میں شمولیت پر غور
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 11 ذیعقدہ 1440هـ - 14 جولائی 2019م KSA 14:15 - GMT 11:15
شامی کردوں کا جنیوا اور ریاض مذاکرات میں شمولیت پر غور
جوان سوز ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

شام کے وسیع وعریض رقبے کا کنٹرول سنبھالنے والے کرد گروپوں کے نمائندوں کی جانب سے شام کے مستقبل کے حوالے سے سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا اور سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں ہونے والے مذاکرات میں شمولیت پر غور شروع کیا ہے۔

شام میں شمالی اور مشرقی علاقوں میں کرد ڈیموکریٹک فورسز کے زیرِ انتظام 'سیلف منیجمنٹ' کے ایک سینیر عہدیدار اور تنظیم کے ترجمان لقمان احمی نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ کرد تنظیم کے نمائندہ وفد کو جنیوا اور ریاض‌ میں‌ ہونے والے مذاکرات میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا بھی کرد وفد کی مذاکرات میں شمولیت کا حامی ہے تاہم اس حوالے سے غور وخوض‌ جاری ہے۔ اگر ہمارا وفد ان مذاکرات میں شرکت کرتا ہے تو اس کا ایجنڈا کیا گیا؟ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن کی بھی کوشش ہے کہ وہ شامی کردوں کو جنیوا اور ریاض میں‌ ہونے والے مذاکرات میں شامل کرے۔ تاہم دوسری طرف ترکی شام سے متصل اپنی جنوبی سرحد پر 'سیف زون' کے قیام پر زور دے رہا ہے۔ ان علاقوں میں کرد ڈیموکریٹک فورسز کے زیر انتظام علاقے بھی شامل ہیں جب کہ ترکی ان کردوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

لقمان احمی کا کہنا ہے کہ کرد شام میں کسی ایسے سیف زون کے قیام کی حمایت نہیں کریں‌گے جس میں کردوں کے مستقبل کو نظر انداز کیا جائے یا کردوں کے خلاف ترکی یا اسد رجیم جارحیت کا مظاہرہ کریں۔ شامی کردوں کے سیاسی حقوق کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

انہوں‌ نے شام میں ترک فوج کی کسی بھی حیثیت میں موجودگی کی مخالفت کی اور کہا کہ اگرچہ شام میں سیف زون کے قیام کے لیے امریکا، یورپ اور ترکی مل کرکام کر رہے ہیں مگر انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان پائے جانے والے اختلافات سیف زون کے عمل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند