تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
صدام حسین کی میت نامعلوم مقام پر منتقل، الحشد ملیشیا شہریوں کی واپسی میں رکاوٹ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: پیر 12 ذیعقدہ 1440هـ - 15 جولائی 2019م KSA 12:50 - GMT 09:50
صدام حسین کی میت نامعلوم مقام پر منتقل، الحشد ملیشیا شہریوں کی واپسی میں رکاوٹ
سابق عراقی صدر صادم حسین کا زبوں حال مقبرہ
عراق ۔ نصیر العجیلی

پانچ سال قبل عراقی فوج نے شدت پسند تنظیم 'داعش' کے خلاف ایک آپریشن میں سابق مصلوب صدر صدام حسین کے آبائی گائوں العوجہ کو داعش سے آزاد کرا لیا تھا مگر کئی سال گذرنے کے باوجود اس گائوں کے لوگ اپنے گھروں کو نہیں لوٹ سکے ہیں۔

گائوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی میں العوجہ پر مسلط عراق کی شدت پسند تنظیمیں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں جن کا یہ دعویٰ ہے کہ اس گائوں کے بہت سے لوگ یا تو داعش میں شامل ہوگئے تھے یا ان کا تعلق صدام حسین کی کالعدم بعث پارٹی کے ساتھ ہے۔ بہت سے اہل محلہ بعث پارٹی کے مسلح ونگ لشکرنقشبندیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

'داعش' نے جون 2014ء کو العوجہ شمایل عراق کے علاقوں تکریت، صلاح الدین گورنری، بغداد اور اس کے اطراف واکناف پر اپنا تسلط قائم کیا۔ مگر مارچ 2015ء کو عراقی فوج نے العوجہ کو 'داعش' کے چنگل سے چھڑا لیا تھا۔

'العوجہ' کو داعش سے آزاد کرنے کے بعد اس پر الحشد الشعبی اور ایران نواز دوسرے گروپ عصائب اھل الحق اور جند الامام ملیشیا نے قبضہ کر لیا۔

صدام حسین کی قبر اکھاڑنا

مقام لوگوں کا کہنا ہے کہ الحشد الشعبی اور دوسرے عسکری گروپوں نے صدام حسین، ان کے بیٹوں قصی اور عدی کی قبروں کو اکھاڑ پھینکا اور ان کی قبروں کی بے حرمتی کی گئی۔ تاہم تکریت میں موجود صدام حسین کے اقارب نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'صدام حسین' کی قبر اکھاڑے جانے کے‌ ڈر سے ڈر سے ان کی میت نامعلوم مقام پر منتقل کر دی تھی۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ پانچ سال کے دوران العوجہ قصبے کے بہت سے لوگ وفات پا گئے اور نقل مکان کرنے والوں کے خاندانوں کے ہاں کئی بچے بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی العوجہ نے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی تعداد 1500 سے زیادہ ہے۔ یہ لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹنا چاہتے ہیں مگر انہیں ایران نواز شیعہ ملیشیائیں واپسی سے روک رہی ہیں۔

العوجہ کےایک مقامی باشندے کے بتایا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ واپسی پرہمیں گرفتار کر لیا جائے گا اور ہم پر طرح طرح کے جعلی الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے جائیں گے۔ انہوں‌نے کہا کہ الحشد ملیشیا نے العوجہ کا سارا نقشہ اور اہم جگہوں کے نام تک تبدیل کر دیے ہیں 'العوجہ' اسپتال کو 'امام مہدی اسپتال' کا نام دیا گیا ہے۔

دوسری جانب صلاح الدین گورنری کی مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے العوجہ کے باشندوں کی محفوظ واپسی یقینی بنانے کے لیے کمیٹی قائم کی ہے جو نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کے لیے مختلف آپشن تیار کرے گی۔

صلاح الدین گورنری کے ایک عہدیدار عمارالجبوری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس اور سیکیورٹی حکام ایک مشترکہ سیکیورٹی کانفرنس میں العوجہ کے باشندوں کی بہ حفاظت واپسی کے حوالے سے غور کیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند