تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران کے پاس ایٹم بم بنانے کے لیے ایک سال سے کم وقت باقی ہے: برطانیہ
تہران کے حوالے سے امریکی پالیسی سے اتفاق نہیں: جیریمی ہنٹ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: پیر 12 ذیعقدہ 1440هـ - 15 جولائی 2019م KSA 14:26 - GMT 11:26
ایران کے پاس ایٹم بم بنانے کے لیے ایک سال سے کم وقت باقی ہے: برطانیہ
تہران کے حوالے سے امریکی پالیسی سے اتفاق نہیں: جیریمی ہنٹ
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ

برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پایا جوہری معاہدہ بچانے کا اب بھی وقت موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس جوہری بم تیار کرنے کے لیے ایک سال سے کم وقت رہ گیا ہے۔

سوموار کے روز برسلز میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے جیرiمی ہنٹ نے کہا کہ برطانیہ امریکا کا سب سے اہم اور بڑا اتحادی ہے مگر ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی کے ساتھ ہمیں اتفاق نہیں ہے۔

اُنہوں‌ نے کہا کہ اگر ایران جوہری بم تیار کرتا ہے تو اس کے پاس اس کے لیے ایک سال سے کم وقت بچا ہے مگر جوہری معاہدے کو بچانے کا موقع ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگرایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس حوالے سے جلد ہی یورپی ملکوں کا ایک اہم اجلاس ہو گا۔ یورپی ممالک ایک مشترکہ کمیٹی قائم کریں گے جو جوہری معاہدہ بچانے کے لیے لائحہ عمل طے کرے گی۔

ادھر فرانسیسی وزیرخارجہ جان ویف لوڈریان نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پائے جوہری سمجھوتے کو بچانے کے لیے یورپی ملکوں کو ایک صفحے پرآنا ہوگا۔ انہوں‌ نے کہا کہ ایران کو جوہری معاہدے کی بعض اہم شرائط معطل کرنے کا فیصلہ واپس لینا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدے کی بعض شرائط سے دست برداری ایران کا بری فیصلے پر برا رد عمل ہے۔

خیال رہے کہ یورپی یونین آج برسلز میں ہونے والے اجلاس میں ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے کو بچانے پرغور کریں‌گے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں خلیجی پانیوں میں عالمی تیل بردار جہازوں پرحملوں اور امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی پربھی غور کیا جائےگا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند