تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر امریکا سے بات ہوسکتی ہے: جواد ظریف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: منگل 13 ذیعقدہ 1440هـ - 16 جولائی 2019م KSA 18:54 - GMT 15:54
ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر امریکا سے بات ہوسکتی ہے: جواد ظریف
ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف
دبئی ۔ ایجنسیاں

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے لچک کا عندیہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیلسٹک میزائل پروگرام پر واشنگٹن سے مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا، مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کو اسلحہ کی فروخت بند کر دے تو ہم بھی بیلسٹک میزائل پروگرام کا معاملہ مذاکرات کی میز پر لانے کو تیار ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے متنازع بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے کسی ایرانی عہدیدار کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا بیان ہے۔ جواد ظریف نے یہ بات سوموار کو 'این بی سی نیوز' چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں‌ کی۔

ایران کا یہ دعویٰ‌ ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب کے زیر کنٹرول بیلسٹک میزائل پروگرام صرف دفاعی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ بیلسٹک میزائل پروگرام سنہ 2015ء کو طے پانے والے جوہری معاہدے کا حصہ نہیں۔

جواد ظریف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی اسلحہ ہمارے خطے میں آ رہا ہے جس نے خطے کو آتش فشاں بنا دیا ہے۔ اگر امریکا ہمارے میزائلوں پر بات کرنا چاہتا ہے تو پہلے اسے مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کو اسلحہ کی فروخت بند کرنا ہوگی۔

ایک دوسرے سیاق میں ایران کے نائب صدر اسحاق جہاںگیری نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری معاہدے کی طرف پلٹنا کوئی مشکل نہیں اور ہم تیزی کے ساتھ واپس آ سکتے ہیں تاہم اس کے لیے امریکا کو ایرانی تیل کی درآمدات اور دیگر پابندیوں کو ختم کرنا ہوگا۔

خبر رساں ادارے 'ایسنا' کے مطابق جہاں گیری نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکا پر ایران پر جوہری معاہدے کی طرف واپسی پر زور دینے کے بجائے امریکا پر دبائو ڈالیں تاکہ وہ ایران پر عاید کردہ پابندیاں ختم کرے۔

انہوں‌ نے کہا کہ اگر ہم نے جوہری معاہدے کی طرف واپسی کا فیصلہ کیا تو ہم چند گھنٹوں میں اس کی تمام شرائط پر عمل درآمد شروع کر دیں‌ گے۔ ادھر ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ امریکا، ایران پرعاید اقتصادی پابندیاں اٹھائے تو اس کے ساتھ کہیں اور کسی بھی وقت بات ہو سکتی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند