تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران مذاکرات کے لیے اپنی سنجیدگی اور تیاری ثابت کرے: امریکا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 14 ذیعقدہ 1440هـ - 17 جولائی 2019م KSA 13:32 - GMT 10:32
ایران مذاکرات کے لیے اپنی سنجیدگی اور تیاری ثابت کرے: امریکا
مورگان اورٹیگاس
العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ ۔ صالح حمید

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر برائے امور خارجہ مائیک پومپیو نے متعدد مواقع پر باور کرایا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ پیشگی شرائط کے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر ایرانیوں‌ کو بھی چاہیے کہ وہ مذاکرات کے لیے اپنی تیاری ثابت کریں۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگان اورٹیگاس نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ایران کے لیے ہمارا پیغام واضح‌ ہے۔ ہم تہران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مائیک پومیو کئی مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ امریکا ایران کے ساتھ پیشگی شرائط کے بغیر بات چیت کے لیے تیار ہے مگر ایرانیوں کو بھی مذاکرات کے لیے اپنی سنجیدگی اور تیاری ظاہر کرنا ہوگی۔

انہوں‌ نے کہا کہ خطے میں ایران کے پُر تشدد طرز عمل کے باوجود امریکا نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا۔ ایران نے عالمی پانیوں میں بحری ٹریفک کو خطرے میں ڈالنے، پاسداران انقلاب کی طرف سے خلیج عرب اور بحر عمان میں دو ماہ کے دوران تیل بردار جہازوں‌ پر حملوں میں‌ ملوث ہونے اور برطانیہ کے جنگی جہاز کی راہ روکنے کی کوششوں‌ کے باوجود امریکا نے ایران کے ساتھ بات چیت پر زور دیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ حالیہ ہفتوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچی ہے مگر دونوں ملکوں میں فوجی محاذ آرائی کا امکان کم ہے۔ صدر ٹرمپ نے دو ماہ کے دوران ایران کی تمام تر ہٹ دھرمی کے باوجود تہران کے ساتھ جنگ چھیڑنے سے گریز کی پالیسی اپنائی ہے۔

امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے 12 شرائط پیش کیں مگر اس کے باوجود دو طرفہ بات چیت کے لیے کسی قسم کی پیشگی شرائط سے گریز کیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ امن بات چیت کے لیے 12 شرایط پیش کی تھیں۔ ان شرائط میں ایران کا جوہری سرگرمیوں پر روک لگانا، میزائل پروگرام بند کرنا، سائبرحملے روکنا، خطے کے ممالک میں مداخلت سے باز رہنا شام اور دوسرے ملکوں‌ میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں کی مدد ترک کرنا شامل ہیں۔

امریکا کی طرف سے غیر مشروط بات چیت کی حمایت کے باوجود اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب نے تہران کے میزائل پروگرام پر امریکا کے ساتھ بات چیت کے امکانات کو رد کر دیا ہے۔

قبل ازیں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ اگر امریکا تہران پر عاید کردہ پابندیاں ختم کرے تو اس کے ساتھ فوری مذاکرات ہوسکتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند