تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
روس کی شام میں حکمت عملی تبدیل، ایلیٹ فورس اسدی فوج کے ہمراہ لڑائی میں شامل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م KSA 10:56 - GMT 07:56
روس کی شام میں حکمت عملی تبدیل، ایلیٹ فورس اسدی فوج کے ہمراہ لڑائی میں شامل
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

روس نے شام میں اپنی ایلیٹ فورس کی ذمہ داری کی نوعیت تبدیل کرتے ہوئے اسپیشل فورسز کو باقاعدہ طور پر بشار الاسد کی فوج کے ساتھ مل کر لڑائی میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق شام میں مسلح عناصر کی طرف سےخبر رساں ایجنسی 'رائیٹرز' کو بتایا گیا کہ روس نے شام میں اسپیشل فورس پر مُشتمل نئی کمک بھیجی ہے جو شام میں بشار الاسد کی فوج اور اس کی حامی ملیشیا کے ساتھ مل کر لڑ رہی ہے۔

اپوزیشن کے حامی مسلح جنگجوئوں‌ کا کہنا ہے کہ اس سے قبل شام میں روس کی اسپیشل فورس کو صرف آپریشن کارروائیوں کے احکامات دینے کی ذمہ داری تک محدود کیا گیا تھا جو براہ راست لڑائی میں حصہ نہیں لیتی تھی مگر اب روس کی اسپیشل فورس باقاعدہ لڑائی میں‌ حصہ لے گی۔

مسلح عناصر کا کہنا ہے کہ روس کی حکمت عملی میں‌ تبدیلی کا مقصد شمال مغربی شام میں اپوزیشن کے زیر انتظام آخری علاقے میں دو ماہ سے جاری آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن رنما لوئی حسین نے بشار الاسد رجیم کی ملک پر گرفت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسد رجیم اس وقت ایک گائوں کے انتظامات سنبھالنے کی پوزیشن میں‌ بھی نہیں رہی ہے۔ ملک کے تمام اہم عہدے اور ذمہ داریاں روسیوں‌ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ انہوں‌ نے کہا کہ روس نے شام میں مداخلت کر کے نصف ملین لوگوں کو قتل کر ڈالا اور اب ماسکو شام کے تمام کلیدی شعبوں پر بھی قابض ہو چکا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند