تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران نے آبنائے ہرمز میں برطانیہ کا تیل بردار جہاز تحویل میں لے لیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 ذوالحجہ 1440هـ - 24 اگست 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 17 ذیعقدہ 1440هـ - 20 جولائی 2019م KSA 08:25 - GMT 05:25
ایران نے آبنائے ہرمز میں برطانیہ کا تیل بردار جہاز تحویل میں لے لیا
العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ ۔ ایجنسیاں

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گذرنے والے برطانیہ کے تیل بردار جہاز 'اسٹینا امپیرو' کو قبضے میں لے لیا ہے۔

پاسداران انقلاب کی ویب سائیٹ پر جمعہ کی شام کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع ہرمزگان میں بندرگاہوں کی ذمہ دار انتظامیہ کی درخواست پر بین الاقوامی بحری قوانین کی خلاف ورزی پر برطانیہ کے تیل بردار جہاز کو تحویل میں لیا گیا۔

ادھر آبی ٹریفک پر نظر رکھنے والی ویب سائیٹ 'میرین ٹریفک' پر جاری ایک خبر میں بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحویل میں لیا گیا برطانوی تیل بردار جہاز اس وقت ایران کی بندر عباس بندرگاہ کے قریب ہے۔

برطانیہ نے اپنا تیل بردار جہاز ایرانی قبضے میں جانے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ جہاز پر عملے سمیت 23 افراد سوار ہیں۔ برطانیہ بحری جہاز سے رابطے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔

ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے زیر قبضہ تیل بردار جہاز متحدہ عرب امارات کی الفجیرہ بندرگاہ سے سعودی عرب کی الجبیل بندرگاہ جا رہا تھا۔

برطانوی جہاز کی مالک کمپنی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمزسے گذرتے ہوئے ایک فوجی کشتی اور ایک ہیلی کاپٹر نے جہاز کو گھیرے میں لے لیا۔

خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق برطانوی کمپنی کا دوسرا تیل بردار بحری جہاز جس پر لائبیریا کا پرچم لہرا رہا تھا شمال سے مغرب کی طرف جاتے ہوئے اچانک آبنائے ہرمز میں خلیج کی طرف مڑ گیا۔

ایران کی 'سپاہ نیوز' ویب سائیٹ کے مطابق برطانوی تیل بردار جہاز کو جمعہ کی شام آبنائے ہرمز سے گذرتے ہوئے قبضے میں لیا گیا۔ ایرانی ویب سائیٹ کے مطابق برطانوی جہاز کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر روکا گیا ہے۔

ادھر برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی تحویل میں آنے والے بحری جہاز سے رابطے کی کوشش اور معلومات جمع کر رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا برطانوی پرچم والا جہاز اچانک ایران کی طرف کیسے چلا گیا۔

جہاز کی مالک کمپنی 'اسٹینا پالک' جہاز پر قبضہ کرنے کے ایرانی اقدام کی مذمت کی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ جہاز کو غاصبانہ طریقے سے روکا گیا ہے۔ یہ اقدام ایران کی بحری قذاقی ہے۔ جہاز آبنائے ہرمز سے گذرتے ہوئے کسی قسم کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہوا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند