تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب کے شہر المجمعہ میں تاریخ کے سب سے بڑے محل کا قصہ!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 18 ذیعقدہ 1440هـ - 21 جولائی 2019م KSA 12:39 - GMT 09:39
سعودی عرب کے شہر المجمعہ میں تاریخ کے سب سے بڑے محل کا قصہ!
العربیہ ڈاٹ‌ن نیٹ ۔ حامد القرشی

سعودی عرب کو تاریخی مقامات اور پرانی املاک کی سرزمین کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ مُملکت کے طول وعرض میں پھیلے تاریخی مقامات میں ایک ایسا محل بھی موجود ہے جو سعودیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا محل تصور کیا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 'العسکر' محل وسطی سعودی شہر المجمعہ کا اہم ترین سیاحتی لینڈ مارک ہے جو 200 سال سے اپنے مخصوص طرز تعمیر اور نجد کے تعمیرات کی رونق بنا ہوا ہے۔

سعودی عرب میں سیاحوں کی رہ نمائی کے لیے کام کرنے ایک تنظیم کے رکن اور ماہر آثار قدیمہ طراد الغنزی نے بتایا کہ المجعمہ گورنری میں واقع العسکر محل ایک تاریخی عمارت اور علاقے کا اہم تاریخی ورثہ ہے۔ یہ محل دو سو سال پرانا ہے۔

العسکر محل 2000 مربع میٹر رقبے پرپھیلا ہوا ہے۔ اسے پرانے نجدی طرز تعمیر پربنایا گیا۔ سعودی فرمانروا شاہ عبدالعزیز سمیت کئی دوسرے سعودی فرمانروائوں نے اس کی باربار سیر کی جب کہ مقامی سیاحوں کے علاوہ مغربی سیاحوں کے لیے بھی ایک پرکشش مقام ہے۔

العسکر محل کے کئی اہم حصے ہیں۔ ان میں ملازمین کی رہائش کے کمرے، انتظامی امور کےدفاتر، کھجوروں کا ایک بڑا گودام، بالائی منزل میں رہائش گاہیں، محل میں گرمیوں اور سردیوں کے لیے الگ الگ قیام گاہیں۔ دونوں موسموں کے دوران کھولےجانے والے دروازے اور ایک مسجد بھی اس کا حصہ ہے۔ مسجد کے باہراس کانام 'مسجد الامراء' لکھا گیا ہے جب کہ محل کےصحن میں پانی کا ایک کنواں‌بھی ہے۔

الغنزی نے بتایا کہ العسکر محل کو متوازی اضلاع کی شکل میں‌تعمیر کیا گیا۔ شہری کی آبادی اس محل کی شمالی سمت میں ہے۔ مشرق میں مہمان خانہ، مغرب میں ایک باغیچہ اور اسے متصل ایک مسجد جسے مسجد الامارہ یا مسجد ابراہیم کہا جاتا ہے واقع ہے۔ سنہ 2017ء میں محکمہ سیاحت نے اس محل کی تعمیر ومرمت کا کام شروع کیا جس پر 30 لاکھ ریال خرچ ہوئے۔ حال ہی میں اسے سیاحوں کے لیے دوبارہ کھولا گیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند