تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نیوم: دنیا کے سب سے بڑے کاربن فری نظام اور قابلِ تجدید توانائی کا مرکز
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 21 ربیع الاول 1441هـ - 19 نومبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 21 ذیعقدہ 1440هـ - 24 جولائی 2019م KSA 16:30 - GMT 13:30
نیوم: دنیا کے سب سے بڑے کاربن فری نظام اور قابلِ تجدید توانائی کا مرکز
’’سعودی عرب تاریخ میں شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی کا سب سے بڑا نیلام کنندہ بننے والا ہے‘‘
تمارا أبوعيش

نیوم میں دنیا کا سب سے بڑا کاربن فری نظام وضع کیا جا رہا ہے اور یہ دنیا میں قابلِ تجدید توانائی کا بھی سب سے بڑا مرکز ہوگا۔ یہ بات اس میگا شہر میں توانائی کے شعبے کے سربراہ پیٹر ٹیریم نے بتائی ہے۔

ان کے بہ قول’’سعودی عرب تاریخ میں شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی کا سب سے بڑا نیلام کنندہ بننے والا ہے‘‘۔

نیوم میں سائنسی محققین فوٹو وولٹیک کے پینلوں کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔ یہ پینل شمسی توانائی کو جذب کرکے اس سے بجلی پیدا کریں گے۔اس کے علاوہ ہوا سے چلنے والی چکیاں (ونڈ ملز) تیار کی جارہی ہیں جن سے قابل تجدید توانائی پیدا ہو گی۔

پیٹر ٹیریم نے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ایک نئی ایجاد کے بارے میں بھی بتایا ہے’’جو نیوم میں پہلی مرتبہ بروئے کار لائی جا رہی ہے۔اس جدید شہر میں محققین گرین مالی کیولز کے نام سے معروف ایک نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرا رہے ہیں۔اس کے استعمال کے ذریعے پانی کو آکسیجن اور ہائیڈروجن میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس سے پیدا ہونے والا ایندھن مکمل طور پر پائیدار ہو گا اور اس سے کاربن یا دوسری ضرررساں گیسوں کا بالکل بھی اخراج نہیں ہوگا اور اس طرح یہ ٹیکنالوجی کاربن فری ایندھن کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگی‘‘۔

ان کا کہنا تھا:’’اس منصوبے کی کامیابی کے لیے نیوم کو دستیاب بہترین دماغوں اور عبقری صلاحیت کے حاملین کو بھرتی کرنے کی ضرورت ہے۔انھیں راغب کیا جائے کہ وہ آئیں اور ہمارے ساتھ کام کریں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ’’ نیوم دنیا میں پہلا بڑا شہر ہو گا جہاں کاربن فری نظام پر اتنے بڑے پیمانے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ اس لیے محققین کے پاس یہ موقع بھی ہوگا کہ وہ اس نظام سے متعلق قواعد وضوابط وضع کریں اور مارکیٹ کا ڈیزائن تخلیق کریں تاکہ ہرقسم کی آلودگی سے پاک ہائیڈروجن کی پیداوار کاروباری پیمانے پرشروع کی جا سکے‘‘۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند