تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
صومالیہ میں اماراتی کمپنی پر حملہ قطر نے کروایا؟
حملے کا مقصد دبئی کو ملنے والے ٹھیکے قطر کو دلوانا تھا: خفیہ آڈیو ٹیپ کے بھانڈا پھوڑ دیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 20 ذیعقدہ 1440هـ - 23 جولائی 2019م KSA 18:28 - GMT 15:28
صومالیہ میں اماراتی کمپنی پر حملہ قطر نے کروایا؟
حملے کا مقصد دبئی کو ملنے والے ٹھیکے قطر کو دلوانا تھا: خفیہ آڈیو ٹیپ کے بھانڈا پھوڑ دیا
موغادیشو میں تعینات قطری سفیر حسن بن حمزہ ہاشم
العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق قطری امیر کے ایک تاجر دوست اور صومالیہ میں متعین قطری سفیر کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو ٹیپ منظر عام پر آئی ہے جس سے یہ سربستہ راز منکشف ہو گیا کہ صومالیہ میں اسی سال مئی کے مہینے میں ہونے والے دہشت گرد حملے دوحا کے عزائم کو جلا بخشنے کے لئے کئے گئے تھے۔ آڈیو ٹیپ کے ذریعے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق یہ حملے متحدہ عرب امارات کو صومالیہ سے ڈرا کر راہ فرار اختیار کرنے کی خاطر کیے گئے تھے۔

نیویارک ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق قطری امیر کے ساتھی خلیفہ کاید المھندی نے موغادیشو میں تعینات قطری سفیر حسن بن حمزہ ہاشم کو اشاروں وکنایوں میں بتایا کہ "میں ان دھماکوں اور لڑائی میں ملوث افراد کو جانتا ہوں۔"

آڈیو ریکارڈنگ میں المھندی کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے ’’یہ دھماکے اور حالات میں کشیدگی دبئی کے افراد کو یہاں سے بھگانے کے لئے کیے گئے تھے۔ انہیں [صومالی حکام] کو اماراتیوں کو نکالنے دو تاکہ یہ اپنے معاہدوں میں تجدید نہ کروا سکیں اور میں یہ تمام معاہدے دوحا کے لئے حاصل کر لوں گا۔"

اس موقع پر قطری سفیر المھندی کو متحدہ عرب امارات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ "یہ حملے اُن کو بھگانے کے لئے کیے گئے۔" اس کے جواب میں المھندی کہتا ہے کہ "ہمارے دوست اس حالیہ بم دھماکے میں ملوث تھے۔"

یہ آڈیو ریکارڈنگ قطر کی خارجہ پالیسیوں کی حریف ایک غیر ملکی خفیہ ایجنسی نے بنائی تھی جس کو امریکی اخبار نے اپنے ذرائع سے حاصل کیا ہے۔ جب نیویارک ٹائمز نے المھندی اور قطری حکومت سے اس ریکارڈنگ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس کے سچ ہونے کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔

اس فون کال کے دوران المھندی قطری سفارتکار کو کہتا ہے کہ اس کے صومالی صدر کے خاندان سے دوستیاں ہیں اور وہ متحدہ عرب امارات کی دبئی پورٹ ورلڈ کمپنی کے تمام معاہدے ختم کروا کر قطر کو دلوا دے گا۔

اماراتی حکومت کی ملکیتی DP World کمپنی اپنی انتظامی صلاحیتوں کے سبب ہارن آف افریقا میں بھی موجود ہے۔ اس کمپنی نے پچھلے سال اکتوبر کے دوران صومالی لینڈ کے نام سے موجود ایک خودمختار علاقے میں دس کروڑ ڈالر کی مالیت کا ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے جس کی مدد سے ایک بندرگاہ میں توسیع کی جائے گی۔ صومالی لینڈ کا علاقہ 1991 میں صومالیہ سے الگ ہو کر ایک خودمختار علاقہ بن گیا تھا مگر اس علاقے کو بین الاقوامی طور پر آزاد تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

رواں سال فروری میں مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں دبئی پورٹ ورلڈ کا ایک مقامی مینیجر ہلاک ہو گیا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری مقامی دہشت گرد گروپ الشباب نے قبول کی تھی۔

نیویارک ٹائمز کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر قطری سفیر نے المھندی کو جاننے سے انکار کر دیا اور فون کا رابطہ منقطع کر دیا۔ مگر المھندی سے رابطہ ہونے پر انہوں نے بتایا کہ وہ صومالیہ میں قطری سفیر کو زمانہ طالب علمی سے ہی جانتے ہیں۔ المھندی کا مزید کہنا تھا کہ "میں ایک ریٹائرڈ شہری اور تاجر ہوں۔ میرا کسی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

اس موقع پر قطری حکومت کی وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں نیویارک ٹائمز کو بتایا گیا کہ "قطر کسی خودمختار ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا۔ اگر کوئی ایسا عمل اختیار کرتا ہے تو وہ حکومت کی پالیسی پر عمل پیرا نہیں۔"

ماہ اپریل کے دوران صومالی فوج کی جانب سے موغادیشو ائیر پورٹ پر ایک اماراتی ہوائی جہاز پر چھاپے اور فوجیوں پر تشدد کے واقعہ کے بعد متحدہ عرب امارات نے موغادیشو میں اپنا سفارتی مشن ختم کر دیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند