تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عراق میں ترک سفارت کاروں کے قاتل کی سنگین غلطی ان کی گرفتاری کا موجب بن گئی!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 20 ذیعقدہ 1440هـ - 23 جولائی 2019م KSA 12:02 - GMT 09:02
عراق میں ترک سفارت کاروں کے قاتل کی سنگین غلطی ان کی گرفتاری کا موجب بن گئی!
عراق ۔ نصیرالعجیلی

عراق کے کُرد اکثریتی شہر اربیل کے ایک باخبر سیکیورٹی ذریعے نے خبر دی ہے کہ چند روز قبل ایک ہوٹل میں تُرک سفارت کاروں پرحملہ کرنے والے جنگجوئوں نے ایک ایسی فاش غلطی کی جو جلد ہی ان کی گرفتاری کا موجب بن گئی۔

اربیل کے ایک ذمہ دارسیکیورٹی ذریعے نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر'العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ' کو بتایا کہ گذشتہ دنوں اربیل میں متعین تُرکی کے ڈپٹی قونصل جنرل اوران کے دوساتھیوں کے قتل میں ملوث عناصر نے ایک ایسی فاش غلطی کا ارتکاب کیا جو ان کی گرفتاری کا سبب بن گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ جیسے ہی ترک سفارت کار کھانے کی میزپربیٹھے تو حملہ آور جو پہلے ہی وہاں آنے والے ترک اہلکاروں‌ کی تاک میں تھے ان کے قریب گئے۔ ان میں سے ایک مسلح شخص جس کی شناخت مظلوم داغ کے نام سے کی گئی نے بندوق لہرائی اور ترک سفارت کاروں کو چیخ کر کہا کہ 'ہم تم سب کو قتل کردیں گے'۔ اس کے ساتھ ہی اس نے ترک سفارت کاروں پر گولیاں چلا دیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اتفاق سے ترک سفارت کاراس جگہ بیٹھے جہاں پہلے ہی ان کے گھات میں حملہ آور موجود تھے۔ ان میں مظلوم داغ بھی تھا جس نے سفارت کاروں پرگولیاں چلائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں سے غلطی یہ سرزد ہوئی کہ انہوں‌ نے اپنے چہرے نہیں چھپائے۔ وہ کھلے چہروں کے ساتھ وہاں بیٹھے رہے اور اسی عالم میں کارروائی کی۔ اگرچہ کارروائی کے بعد وہ وہاں سے فرار ہوگئے مگر 'سی سی ٹی 'کیمروں میں ان کی تصاویر آچکی تھیں۔ اس لیے جلد ہی انہیں پکڑ لیا گیا۔

مظلوم داغ

ذرائع کا کہنا ہے کہ مظلوم داغ کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ سنائپر پستول نکال کر ترک سفارت کاروں پر گولیاں چلائے گا۔ اگر وہ کارروائی میں ناکام رہتا تو اس کا ساتھی محمد بیسکسز جو اس کے قریب ہی براجمان تھا

کو کارروائی کرنا تھی۔ بیسکسز کو تین دوسرے ناموں یوسف، دجوار اور مامند کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ مظلوم دغ اور بیکسز ایک تیسرے شخص کے ہمراہ چھوٹی کار سے ہوٹل کے سامنے اترے۔ وہ ہوٹل میں موجود لوگوں‌کے ہجوم میں تیزی کے ساتھ اندر داخل ہوئے۔

مظلوم داغ کو اربیل شہر میں تلاشی کےدوران گرفتار کرلیا گیا جب کہ ان کا ایک ساتھ کردو ورکرز پارٹی کے گڑھ جبال قندیل کی طرف فرار ہوگیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں سے سب سےبڑی غلطی یہ ہوئی کہ وہ اپنے چہرے نہیں چھپا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں جلد ہی حراست میں لے لیا گیا۔

محمد بیکسز

کرد ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ مظلوم داغ کی ایک بہن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی ٹکٹ پرترک پارلیمنٹ کا رکن بھی رہا ہے۔ اربیل پولیس اس کارروائی میں ملوث تمام عناصر کو حراست میں لینے کے لیے پرعزم ہے تاہم کسی گروپ نے اب تک اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

ستائیس سالہ مظلوم دغ ترکی کے شہر دیار بکرکا رہائشی ہے اور وہ گذشتہ 6 سال سے اربیل کے مختلف ہوٹلوں میں کام کرتا رہا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند