تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکی تجزیہ نگار کا قطر کو دہشت گردوں کا سرپرست ملک قرار دینے کا مطالبہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 15 ذوالحجہ 1440هـ - 17 اگست 2019م KSA 20:16 - GMT 17:16
امریکی تجزیہ نگار کا قطر کو دہشت گردوں کا سرپرست ملک قرار دینے کا مطالبہ
العربیہ ڈاٹ نیٹ

ایران کی طرح خلیجی ریاست قطر بھی ان ممالک میں شامل ہے جو اسلامی انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی منظم اور ریاستی سطح پر سرکاری سرپرستی میں پشت پناہی کے الزام کا سامنا کر رہی ہے۔

امریکا کے ایک سینیر دانشور اور ٹیکساس یونیورسٹی کے پروفیسرگورڈن کوب نے قطر کو دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی تجزیہ نگار نے اخبار"The Federalist" میں شائع ایک مفصل مضمون میں قطر کی دہشت گردوں کی پشت پناہی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

فاضل امریکی دانشور لکھتے ہیں کہ قطر علانیہ اور غیر علانیہ دونوں انداز دہشت گردوں کو پناہ دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ دہشت گردوں کو سب سے زیادہ فنڈنگ قطر سے کی جا رہی ہے مگر اس اعتراف کے باوجود امریکی انتظامیہ دوحا کے خلاف کوئی موثر اور ٹھوس کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قطر کی دہشت گردی کی پشت پناہی کو سرعام بے نقاب کرتے ہوئے قطر کو بھی دہشت گردوں کا سرپرست ملک قرار دیا جائے۔

فوجی اڈا اور اربوں ڈالر

امریکا میں میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے عہدیدار قطر سے اربوں ڈالر کی عسکری تجارت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ قطر میں امریکا نے ایک بڑا فوجی اڈا بنا رکھا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں امریکی فوجی موجود ہیں۔

امریکی مفادات کے لیے چیلنج

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور قطر کے درمیان اقتصادی اور عسکری مفادات کے ساتھ ساتھ قطر کے سیکیورٹی مفادات بھی امریکا کے لیے ایک چیلنج ہے۔ قطر فلسطینی تنظیم 'حماس' اور دیگر گروپوں کی مالی مدد کر رہا ہے۔ امریکا کو قطر کے ساتھ اپنے مفادات کی پرواہ کیے بغیر دوحا کو دہشت گردوں کی پشت پناہ ریاست قرار دینا چاہیے۔ اگر قطر کی طرح کوئی دوسرا ملک دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا ہے تو امریکا اسے دہشت گردوں کا معاون اور سہولت کار قرار دینے میں کوئی پس وپیش سےکام نہیں لیتا۔ اس لیے قطر کے معاملے میں بھی کوئی سستی نہیں کی جانی چاہیے۔

حماس کی فنڈنگ

رپورٹ کے مطابق قطر اور حماس کے تعلقات حد درجہ گہرے ہیں۔ امریکا نے حماس کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ کر رکھا ہے۔ یہ جماعت اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا نعرہ لگاتی ہے۔ دوحہ کو حماس کی فنڈنگ کرنے والا بڑا ملک سمجھا جاتا ہے۔ سنہ 2012ء کے بعد قطر نے حماس کو ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی رقوم فراہم کیں۔

امیر قطر کے بیانات میں تضادات

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امیر قطر بہ ظاہر دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں مگر انہوں نے حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ نہ صرف حماس کو دہشت گرد قرار دینے کے خلاف ہیں بلکہ تنظیم کی بھرپور مالی مدد کرتے ہیں۔

امریکی ٹی وی چینل 'سی این این' کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں امیر قطر تمیم بن حمد آل ثانی نے کہا کہ قطر پوری فلسطینی قوم کی مدد کرتا ہے۔ ہم حماس کو فلسطینی قوم کا جزو قرار دیتے ہیں'۔ یوں امیر قطر حماس کی علانیہ مدد کرتا ہے۔

سنہ 2014ء کو قطر کی طرف سے حماس کے 44000 ملازمین کی تن خواہوں کی رقم ادا کی۔ سنہ 2016ء کو قطر نے دوبارہ حماس کی مالی مدد شروع کی جو اس وقت اسماعیل ھنیہ کی قیادت میں کام کررہی ہے۔ حماس کو ملنے والی فنڈنگ جماعت کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ تک پہنچتی ہے۔ القسام بریگیڈ نے سنہ 2001ء سے 2014ء تک اسرائیل پر 17 ہزار میزائل برسائے۔

اخوان اور طالبان کی معاونت

حماس کی طرح قطر نے اخوان المسلمون اور افغانستان کے طالبان کی بھی بھرپور مدد اورمعاونت کی۔ امریکا نے اخوان المسلمون اور طالبان دونوں کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے مگر قطران کی مالی معاونت کرتا ہے۔ اسی طرح عرب ممالک جن میں مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، شام اور روس نے اخوان المسلمون کودہشت گرد قرار دے رکھا ہے مگر اس گروپ کو قطری حکومت کی طرف سے ایک ارب ڈالر سے زاید کی رقم فراہم کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ افغان تحریک طالبان کے 20 اہم لیڈروں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند