تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
لبنان میں حزب اللہ کے گڑھ کے لیے "ترقیاتی" وعدے بھاپ بن کر اُڑ گئے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 17 ذوالحجہ 1440هـ - 19 اگست 2019م KSA 13:03 - GMT 10:03
لبنان میں حزب اللہ کے گڑھ کے لیے "ترقیاتی" وعدے بھاپ بن کر اُڑ گئے!
بيروت ـ جونی فخری

لبنان میں مئی 2018 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد سے حزب اللہ تنظیم یہ محسوس کرنے لگی ہے کہ البقاع کے علاقے میں عوام کا مزاج تنظیم سے انتہائی بیزاری کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ کیوں کہ البقاع کے لوگوں کو شدت سے یہ احساس ستا رہا ہے کہ گذشتہ برسوں کے دوران حزب اللہ نے اس علاقے کے ساتھ محض "جنگجوؤں کے ڈپو" والا معاملہ کیا ہے اور اس دوران ارکان پارلیمنٹ اور ذمے داران کے ذریعے کوئی قابل ذکر ترقیاتی خدمات پیش نہیں کی گئیں۔

حزب اللہ ایک عرصے سے اپنی کوششوں کو (جن کو البقاع کے لوگوں کے لیے تھپکی دے کر سلانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے) صبر اور جہاد پر مبنی مذہبی مواعظ، ترقیاتی وعدوں اور بدعنوانی کے الزامات میں لتھڑے ہوئے بعض رہ نماؤں کے دفاع کی مساعی کے ذریعے بھرپور بنانے کی تگ و دو میں ہے۔

اس سلسلے میں حزب اللہ نے کئی ہفتوں سے اپنے رہ نما شیخ حسین الکورانی کو جو کہ حال ہی میں ایران سے واپس آیا ہے، بعلبک کے علاقے میں بھیجا۔ الکورانی نے وہاں تنظیم کے جز وقتی اور کل وقتی ارکان سے خطاب کرتے ہوئے صبر، جہاز اور شہادت پر زور دیا۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی مطالبہ کیا کہ اس دشوار مرحلے میں تنظیم کی دانش مند قیادت کے ساتھ کھڑا ہوا جائے۔

انتخابات سے قبل لبنان کے مشرق میں البقاع کے شیعہ اکثریتی علاقے بعلبک میں علاقے کے حوالے سے حزب اللہ کی پالیسیوں کی مذمت میں آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں۔ اس لیے کہ جنوبی حصے کے مقابلے میں یہاں پر کسی ترقیاتی منصوبے پر عمل درامد نہیں ہوا۔ البقاع کے باسیوں نے اس بدقسمتی کا جواب حزب اللہ کے مقابل امل موومنٹ کے ساتھ مل کر انتخابی اتحاد کی صورت میں دیا۔ امل موومنٹ کے سربراہ لبنانی پارلیمںٹ کے اسپیکر نبیہ بری ہیں۔

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے (دو ہفتے قبل) ہفتے کی شام بعلبک میں "امام خمینی امام بارگاہ" میں اسکرین کے ذریعے البقاع کے علاقے میں مصروف عمل تنظیم کے ارکان اور قیادت سے خطاب کیا۔ اس موقع پر علاقے سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ بھی موجود تھے۔ خطاب میں تین امور پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی :

1 ۔ البقاع کے علاقے کے لیے شیخ محمد یزبک (لبنان میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قانونی سکریٹری) کی سربراہی میں 12 رکنی مجلس شوری تشکیل دینے کا وعدہ کیا گیا۔ اس مجلس کی ذمے داری البقاع کے مسائل کو حل کرنا اور وہاں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی ہو گی۔

2 ۔ نصر اللہ نے حزب اللہ کی پالیسی پر تنقید کرنے والے اور اس کے بعض ذمے داران کی بدعنوانی پر روشنی ڈالنے والے سوشل میڈیا صفحات پر شدید غصے کا اظہار کیا اور حسب عادت اسے تنظیم کے خلاف میڈیا کی جانگ کا حصہ قرار دیا۔ نصر اللہ نے ایک بار پھر سامعین کو یہ گوش گزارا کہ وہ کئی برسوں سے تنظیم کی سکریٹری شپ چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کی آرزو ہے کہ وہ پھر سے البقاع میں تنظیم کے ذمے دار بن جائیں۔

3 ۔ حسن نصر اللہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں امریکا کے عسکری طور پر ناکام ہونے کے بعد حزب اللہ پر واشنگٹن کی پابندیاں شدید ہونے کے سبب آئندہ مرحلہ ہر گز آسان نہیں ہو گا۔

غالبا البقاع کے باسیوں کو سب سے زیادہ غضب ناک اس امر نے کیا کہ البقاع سے متعلق مجلس شوری کا حقیقی عملی سربراہ اور فیصلوں کا مالک ہاشم صفی الدین ہو گا جس کا تعلق جنوبی لبنان سے ہے۔ اس لیے کہ شیخ یزبک بیمار ہیں اور ان کا زیادہ وقت علاج معالجے میں گزرتا ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ مجلس شوری کی تشکیل کے بجائے آٹھ ارکان پر مشتمل حزب اللہ کا پارلیمانی گروپ البقاع کے باسیوں کے لیے یونیورسٹیز، ہسپتال اور کارخانے بنا کر اُن کے دل جیت لیتا۔

البتہ ایسا نظر آ رہا ہے کہ البقاع کے باسیوں کی مشکل کم کرنے کے لیے حزب اللہ کی کوششوں کو رکاوٹ کا سامنا ہے۔ اسکی وجہ ترقیاتی منصوبوں کا نہ ہونا اور امن و امان کی بگڑتی صورت حال ہے۔

لبنانی وزیراعظم سعد حریری کی جماعت المستقبل کے ایک رکن پارلیمنٹ بكر الحجيری نے (جو البقاع میں سنی اکثریتی قصبے عرسال سے تعلق رکھتے ہیں) العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ "نصر اللہ نے پارلیمانی انتخابات سے قبل بعلبک میں دیہات اور قصبوں کے دوروں میں ترقیاتی منصوبے پیش کرنے اور ان پر عمل درامد کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم افسوس کی بات کہ اس وعدے کو پورا نہ کیا گیا۔ اسی طرح البعلبک - الهرمل کے علاقے میں وضع کردہ سیکورٹی پلان پر بھی عمل درامد نہ ہوا اور ابھی تک سیکورٹی انارکی چھائی ہوئی ہے۔ اس کی اولین ذمے داری حزب اللہ پر اور اس کے ساتھ امل موومنٹ پر عائد ہوتی ہے"۔

الحجیری نے زور دے کر کہا کہ "حزب اللہ اور امل موومنٹ کے مذکورہ وعدوں پر عمل درامد نہ ہونے کے سبب ہمارا علاقہ مستقل طور پر ترقی اور امن و امان سے محروم ہے۔ شام کی جنگ میں حزب اللہ کی شرکت کے نتیجے میں البقاع کے لوگوں کی ہلاکتوں میں اضافے کے سبب صورت حال انتہائی گھمبیر ہو گئی ہے۔ علاقے کے لوگوں کی معاشی ابتری نے بعلبک میں حزب اللہ کی پالیسیوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے"۔

حزب اللہ کا گڑھ سمجھے جانے والے شیعہ اکثریتی علاقے بعلبک - الہرمل کا شمار لبنان میں سیکورٹی انارکی کے سب سے زیادہ شکار علاقوں میں ہوتا ہے۔ یہاں بڑے پیمانے پر ہتھیار پھیلے ہوئے ہیں اور سیکورٹی حکام کو مطلوب افراد کی تعداد 30 ہزار سے زیادہ ہے۔ اگرچہ یہ علاقہ سیاحتی اور آثار قدیمہ کے مقامات کے لحاظ سے بھرپور ہے تاہم اس کے باوجود یہ ترقیاتی منصوبوں سے محروم ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند