تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
’اللہ صدر ٹرمپ کا بیڑا غرق کرے‘: رشیدہ طلیب کی دادی امّاں کی بد دعا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 ربیع الاول 1441هـ - 14 نومبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 17 ذوالحجہ 1440هـ - 19 اگست 2019م KSA 15:13 - GMT 12:13
’اللہ صدر ٹرمپ کا بیڑا غرق کرے‘: رشیدہ طلیب کی دادی امّاں کی بد دعا
مفتیہ طلیب، امریکی رکن کانگرس رشیدہ طلیب کی دادی
العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی کانگریس کی فلسطینی نژاد ڈیموکریٹ رکن رشیدہ طلیب کی دادی امّاں مفتیہ طلیب نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت بددعا دی ہے اور کہا ہے کہ ’اللہ ٹرمپ کا بیڑا غرق کرے‘۔

وہ اسرائیل کے مقبوضہ غربِ اردن میں رہ رہی ہیں۔ رشیدہ طلیب اپنی ساتھی رکن کانگریس الہان عمر کے ہمراہ ان سے ملاقات کے لیے آنا چاہتی تھیں لیکن اسرائیل نے گذشتہ جمعرات کو امریکی صدر کے دباؤ پر انھیں مقبوضہ فلسطینی علاقے میں آنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔مفتیہ طلیب اپنی پوتی کے سفر میں رکاوٹ ڈالنے پر امریکی صدر سے نالاں ہیں۔

اس اگلے روز گذشتہ جمعہ کو اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ رشیدہ طلیب کو غربِ اردن میں اپنے خاندان سے ملاقات کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اجازت دینے کو تیار ہے لیکن طلیب نے اس پیش کش کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا تھا کہ اسرائیل نے ان پر پابندیاں عاید کرکے ان کی بے توقیری کی کوشش کی ہے۔اسرائیلی وزارت خارجہ نے مبیّنہ طور پران سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ غربِ اردن میں قیام کے دوران میں صہیونی ریاست کے خلاف کوئی بیان نہیں دیں گی۔

اس پر جمعہ کی شب صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ رشیدہ طلیب نے غربِ اردن میں اپنے خاندان سے ملاقات کی درخواست دی تھی اور اس کو فوری طور پر منظور کر لیا گیا تھا لیکن طلیب نے اس کو مسترد کردیا ہے۔اب اس معاملے میں حقیقی فاتح تو ان کی دادی رہی ہیں اور وہ اپنی پوتی سے ملاقات نہیں کرسکیں گی۔

مگرنوّے سالہ ضعیف العمر مفتیہ طلیب صدر ٹرمپ کے اس بیان سے کوئی زیادہ متاثر نہیں ہوئی ہیں۔وہ غربِ اردن میں واقع گاؤں بیت اُر الفوقہ میں خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ مقیم ہیں۔ان سے جب صحافتی نمایندے نے گفتگو کی تو وہ زیتون کے باغ میں بیٹھی تھیں اور ان کی زبان سے اچانک یہ کلمات نکلے:’’ٹرمپ مجھے یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ مجھے خوش ہوجانا چاہیے کیونکہ رشیدہ طلیب نہیں آرہی ہیں۔اللہ اس ٹرمپ کا بیڑا غرق کرے‘‘۔

ان کے بیٹے اور رشیدہ کے چچا بسام طلیب نے بتایا کہ دونوں دادی پوتی میں 2006ء کے بعد سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ رشیدہ طلیب اپنی دادی امّاں سے بہت محبت کرتی ہیں اور وہ انھیں دادی سے زیادہ اپنی دوسری امّی قرار دیتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی تمام کامیابیوں میں ان کی دادی کا بڑا ہاتھ ہے۔مفتیہ طلیب کو امید ہے کہ ایک دن ان کی پوتی ان سے ضرور ملنے کے لیے آئیں گی۔

واضح رہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی منتخب ارکان کانگریس رشیدہ حربی طلیب اور الہان عمر دونوں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی پالیسیوں کی سخت مخالف ہیں۔ وہ دونوں امریکی صدر کی جانب سے اسرائیل کی بے جا حمایت پربھی نکتہ چینی کرتی رہتی ہیں۔انھوں نے اسرائیل کی غربِ اردن کی مصنوعہ اشیاء کی دنیا بھر میں بائیکاٹ کی مہم کی بھی حمایت کی تھی۔

وہ امریکا میں منعقدہ گذشتہ انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر ریاست مشی گن کے تیرھویں ضلع سے ایوان نمایندگان کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔ رشیدہ طلیب اسی ریاست کے شہر ڈیٹرائٹ میں پیدا ہوئی تھیں اور وہ امریکی کانگریس کی پہلی فلسطینی نژاد امریکی رکن ہیں۔

وہ اسرائیل کے علاوہ صدر ٹرمپ کی شدید ناقد ہیں اور ان کے خلاف تندوتیز بیانات جاری کرتی رہتی ہیں۔صدر ٹرمپ بھی پھپھے کٹن عورتوں کی طرح انھیں جلی کٹی سنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ہیں اور ان کے خلاف معمولی معمولی باتوں پر ٹویٹر پر بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند